
جب والدین بچوں کو اس طرح مخاطب کرتے ہیں کہ خاک ہو تمہارے سر پر، تم کچھ نہیں بن سکتے، تم گدھے ہو، تم بدبخت ہو، تم کچھ بھی نہیں کر سکتے لیکن تمہاری خالہ کے بیٹے نے فلاں کام کر کے دکھایا ہے۔
ایسے انداز سے بات کرنا بچے کی شخصیت کو توڑ دیتا ہے اور سوائے دشمنی اور حسد کے اس کا نتیجہ نہیں نکلتا۔ یہ موازنہ بچے کو کمزور بنانے اور ذلیل و خوار کرنے کے مترادف ہے۔
(اس کے برعکس) تم اس سے زیادہ ذہین ہو، تم اس سے زیادہ با صلاحیت ہو اور تم اس سے بہتر ہو سکتے ہو، بس تم اپنی ان صلاحیات سے بے خبر ہو۔ دیکھو فلاں بچے میں تم سے کم صلاحیات ہیں لیکن وہ یہ کام کرکے دکھاتا ہے۔ حالانکہ تم اس سے زیادہ ذہین ہو کیوں بیٹھے رہتے ہو اور کوئی قدم نہیں اٹھاتے؟
اس طرح بات کرنے کا انداز بچے کو اس میں پائی جانے والی توانائیوں سے آگاہ اور صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا موجب بنتا ہے۔


































