
تہران : ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔ صدارتی ترجمان نے واضح کیا کہ حادثے کے بعد آیت اللہ الہاشم کے سوا تمام افراد فوری جاں بحق ہوگئے تھے۔ آیت اللہ الہاشم تقریبا تین گھنٹے تک زندہ رہے اور شدید زخمی ہونے کے باعث معلومات فراہم نہ کرسکے۔ صدارتی ترجمان نے حادثے سے متعلق تمام افواہوں کو رد کردیا اور کہا کہ فی الحال یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ حادثہ کیسے پیش آیا۔ حادثے کے مقام پر دور دور تک کوئی آبادی نہیں اس لیے کسی گواہ کا ملنا بھی مشکل ہے۔ ترجمان کے مطابق صدارتی قافلے میں شامل دو ہیلی کاپٹرز میں سے ایک نے رُخ تبدیل کرکے صدر کے ہیلی کاپٹر کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر موسم کی خرابی کے باعث وہ بھی واپس تبریز لوٹ گیا۔ صدارتی ترجمان نے واضح کیا کہ حادثے کے بعد آیت اللہ الہاشم کے سوا تمام افراد فوری جاں بحق ہوگئے تھے۔ ایک ہیلی کاپٹر میں موجود اہلکار نے بتایا کہ صدارتی ہیلی کاپٹر کا پائلٹ قافلے کا انچارج تھا۔ پرواز کے 45 منٹ بعد صدارتی پائلٹ نے کہا کہ بادل سے بچنے کے لیے پرواز اونچی کریں۔ اہلکار نے بتایا کہ تیس سیکنڈ بعد ہمارے پائلٹ نے نوٹ کیا کہ صدر کا ہیلی کاپٹر غائب ہوگیا ہے۔ ہمارے پائلٹ نے قریبی تانبے کی کان پر ہیلی کاپٹر اتارا۔
صدر کے پائلٹ، وزیر خارجہ اور صدر کے محافظ کو فون کیا مگر جواب نہ ملا۔ آیت اللہ الہاشم نے کال اٹھائی اور بتایا کہ ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوگیا ہے۔ الہاشم کی موت حادثے کے کئی گھنٹے بعد ہوئی۔


































