
لاہور: امتِ مسلمہ کے عظیم رہبر، آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور پاکستان کی سالمیت، قومی وحدت، خودمختاری اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و بیداری کے پیغام کو اجاگر کرنے کے لیے مینارِ پاکستان میں ایک منظم، پُروقار اور تاریخ ساز “شہیدِ امت کانفرنس” منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے ممتاز دینی، سیاسی، سماجی اور فکری شخصیات نے شرکت کی، جبکہ اس عظیم الشان اجتماع میں لاکھوں مرد، خواتین اور بچوں کی بھرپور اور نمایاں موجودگی بھی دیکھنے میں آئی۔
نمایاں مقررین میں سربراہ تحریک بیداریِ امتِ مصطفیٰؐ علامہ سید جواد نقوی، سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، چیئرمین امام خمینی ٹرسٹ علامہ ریاض حسین نجفی ، رہنما جماعت اسلامی محمد جاوید قصوری، سینئر رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) خواجہ سعد رفیق، چیئرمین امامیہ آرگنائزیشن پاکستان برادر حضور مہدی، مرکزی صدر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سید امین شیرازی و دیگر شامل تھے۔
تحریک بیدارئ امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے خطاب میں کہا کہ یہ عظیم الشان کانفرنس اجتماعی شعور، قومی یکجہتی اور فکری بیداری کا اظہار ہے۔ یہ ان تمام طبقات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی کوشش ہے جنہوں نے حق، انصاف اور مظلومیت کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دکھایا، اور یہ اس امر کا اعلان بھی ہے کہ پاکستان کے عوام عالمی ضمیر کی اس بیداری کا حصہ ہیں جو ظلم کے خلاف اور انسانی وقار کے حق میں جنم لے رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ علاقائی صورتحال اور خطے کی کشیدگی کے دوران پاکستانی قیادت نے سفارت کاری، تدبر اور ثالثی کے ذریعے ایک مثبت اور باوقار کردار ادا کیا ہے۔ بعض عالمی قوتیں پاکستان کو اپنے مضموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھیں، لیکن پاکستانی قیادت نے بصیرت اور سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پاکستان کے وقار، احترام اور اہمیت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے حصے کا کردار ادا کر کے پاکستان کی عزت اور مقام کو بلند کیا ہے، اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نظم، شعور، اتحاد اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے دنیا کے سامنے ایک باوقار، باشعور اور منظم ملت کا نمونہ پیش کریں۔
مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد امت مسلمہ کو ایک ایسے فکری و عملی عہد کی طرف متوجہ کرنا ہے جو اسے کمزوری، تفرقہ اور مایوسی سے نکال کر قوت، وحدت اور امید کی طرف لے جائے۔ رہبرِ شہید کی شہادت نے ایک فرد کو تاریخ سے رخصت نہیں کیا بلکہ ایک فکر کو مزید وسعت اور توانائی عطا کی ہے۔ اگر اس شہادت کا کوئی سب سے بڑا پیغام ہے تو وہ یہی ہے کہ امتِ مسلمہ اپنی مصنوعی تقسیموں سے بلند ہو، مشترک اقدار کے گرد جمع ہو، حق و انصاف کے ساتھ کھڑی ہو اور ایک ایسی امتِ واحدہ کی تشکیل کی طرف پیش قدمی کرے جو انسانیت کے لیے عدل، عزتِ نفس اور آزادی کی علمبردار بن جائے۔
جماعت اسلامی کے رہنما محمد جاوید قصوری نے کہا کہ یہ سنتِ الٰہی ہے کہ اللہ کی راہ میں دی جانے والی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں بلکہ وہ صدیوں تک انسانیت کی رہنمائی کرتی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ امتِ مسلمہ کی اصل تقسیم شیعہ اور سنی، عرب و عجم یا مشرق و مغرب کے درمیان نہیں بلکہ حق اور باطل کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے رہبر کی شہادت جس نے اپنی پوری زندگی فلسطین، لبنان، یمن اور دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت میں گزاری، نے فرقہ وارانہ تعصبات کی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی دینی، سیاسی اور علمی شخصیات نے اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر اس رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
علامہ امین شہیدی نے کہا کہ اس بیداری، اتحاد اور شعور کو محفوظ رکھنے کے لیے محرم الحرام ایک غیر معمولی فرصت کی حیثیت رکھتا ہے۔ عصرِ حاضر کی کربلا میں مزاحمت و استقامت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے شہادت پانے والوں کا تذکرہ درحقیقت محرم کو مقصدِ امام حسینؑ سے جوڑتا ہے۔
آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر سید امین شیرازی نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں سے پیدا ہونے والی یہ تاریخی فرصت امت کے اتحاد، عزت اور سربلندی کا ذریعہ بن چکی ہے تاکہ امتِ مسلمہ اپنے حقیقی دشمن یعنی صہیونی استکباری نظام، امریکی بالادستی اور اس کے حلیفوں کی سازشوں کو پہچان کر ان کے مقابلے میں یکجا اور بیدار ہو سکے۔


































