Sun Oct 18, 2026

فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں یمنی فوج نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 ارکان ہلاک فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش، مصری صدر یمن میں کارروائی کیلئے تیار خطے میں امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ امریکی بحریہ کا پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں ایران کا انصار اللہ اور سعودی عرب میں ثالثی کی پیشکش کا اعادہ بی بی زینبؑ کا کردار، صبر، بہادری اور ثابت قدمی خواتین کیلئے مشعلِ راہ ہے، ولی امر مسلمین اسرائیل مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کا جبری قیام روکے، چینی وزیرخارجہ امریکا کو ایران کے خلاف کیے گئے مظالم پر سزا ملنی چاہیے، قالیباف یمنی فوج نے سعودی عرب کا جاسوسی اور جنگی ڈرون مار گرایا احمد الشرع کو دھمکی دیکر شام میں دروز برادری کا قتل رکوایا، نیتن یاہو یمن سے مکہ یا مدینہ پر حملے کا دعویٰ جھوٹ ہے، انصار اللہ ایران کی سخت دھمکی، دشمن کے مفادات اور اثاثے بھی نشانے پر ہوں گے امریکی فوج کے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے نئے منصوبے تیار

روزانہ کی خبریں

شہید مطہری کی نمایاں خصوصیات

تحریر: بشری

مقدمہ:
شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری بلند پایہ شخصیات میں سے ہیں، جنہوں نے اسلام کے لئے اہم کردار ادا کئے ہیں۔ آپ علم و عمل میں اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔ آپ ایک عالم باعمل کے ساتھ ایک ماہر استادِ علم اور استادِ فکر تھے۔ آپ نے اپنے علم و فکر سے دشمنوں کے تمام ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ ان کی پشت پردہ سازشوں سے پردہ ہٹا کر ان کو بے نقاب کیا اور انہیں ان کے مقاصد میں ناکام کر دیا۔ اس عظیم شخصیت کے بارے میں امام خمینی (رہ) فرماتے ہیں کہ: "یہ ان ستاروں میں سے ایک ہے، جو عمل کو ایمان، اخلاق کو عرفان، برہان کو قرآن، علم کو حکمت، اپنی شہادت سے سماج کی ہدایت اور تاریکیوں کی ظلمتوں میں ڈوبے ہوئے سماج کے لیے مشعل راہ  تھا۔ جو ایک چراغ کی طرح جلتا رہا اور اپنے چاہنے والوں کو اپنے نور کی کرنوں سے منور کرتا رہا۔” شہید مطہری کی زندگی پر اگر نظر ڈالی جائے تو خدا کے حقیقی عاشق تھے اور دین کے حقیقی پیروکار تھے۔ آپ ہمیشہ اپنے دوستوں کو بھی دین پر عمل پیرا ہونے کی تاکید کرتے اور جس پر خود عمل کرتے تھے، اس پر اپنے دوست و احباب کو عمل کرنے کی تاکید کیا کرتے تھے۔ شہید مطہری میں بہت سی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے چند آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں۔

1۔ شہید مطہری اور کام میں خلوص:
اخلاص ایک ایسا اکسیر ہے، جس کے ذریعے عبادت، خدا کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لائق بن جاتی ہے۔ جس عمل میں اخلاص پایا جاتا ہے، خدا اسے جلدی قبول کرتا ہے اور خدا اس کے لئے حکمت کے دروازے کھول دیتا ہیں۔ رسول خدا (ص) سے روایت ہے کہ: "اگر کوئی بندہ اپنے عمل کو چالیس روز تک صرف و صرف خدا کے لیے انجام دے تو اس کے قلب و روح سے علم و حکمت کے چشمے نکل کر زبان پر جاری ہو جائیں۔” ایک اور حدیث میں ہے کہ: "اخلاص ایک ایسی دانشگاہ ہے کہ چالیس روز ہی میں انسان کو فارغ التحصیل کرکے سند حکمت عطا کردیتی ہے۔”(1) جب انسان مخلص ہوتا ہے تو خدا قرآن مجید میں اس کی یوں تعریف کرتا ہے: "اے پیغمبر اس کتاب (قرآن) میں موسیٰ کا تذکرہ کرو! اس لئے کہ وہ ایک مخلص بندے، رسول اور نبی تھے۔” (2)

شہید مطہری اولیاء اور انبیاء کی سیرت کے مطابق خلوص کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے، آپ کہتے تھے کہ: "کام کو اپنے لئے کرنا نفس پرستی، دوسرے انسانوں کے لئے کرنا بت پرستی، اپنے اور دوسرے سب کے لئے کرنا شرک اور صرف اور صرف خدا کے لیے کام انجام دینا توحید اور خدا پرستی ہے۔” آپ کہتے تھے کہ کام ہونا چاہیئے، نام چاہے کسی کا بھی ہو۔ حسینہ ارشاد میں ڈاکٹر شریعتی کے آجانے سے جوانوں کے درمیان آپ کی شہرت پر کافی اثر پڑا تھا، لیکن آپ اس کی فکر نہیں کرتے تھے بلکہ آپ کا پورا ہم و غم یہی تھا کہ اسلامی افکار لوگوں تک منتقل ہونے چاہئیں، چاہے کسی کے بھی ذریعے ہوں۔

2۔ شہید مطہری کا نماز سے عشق:
شہید مطہری نماز کے معاملے میں بہت سنجیدہ تھے۔ ہمیشہ اول وقت نماز ادا کرتے تھے اور دوسروں کو بھی اول وقت نماز پڑھنے کی تاکید کرتے تھے۔ شہید مطہری نماز کو بہت اہمیت دیا کرتے تھے، چاہے کتنا بھی ضروری کام ہو، اگر نماز کا وقت ہوگیا تو اسے فوراً ترک کر دیتے تھے۔ نماز کو پورے خضوع و خشوع اور اس کے تمام آداب کے ساتھ بجا لاتے تھے۔ آپ گھر کے لباس میں نماز نہیں پڑھتے، خاص طور سے صبح کی نماز عام لوگ سونے کے لباس ہی میں پڑھ لیتے ہیں، لیکن استاد مطہری عبا قبا پہن کر اور عمامہ لگا کر نماز پڑھتے تھے، تاکہ پوری آمادگی اور اہتمام کے ساتھ نماز ادا کی جاسکے اور یہ محسوس نہ ہونے پائے کہ نماز ایسے ہی ایک معمولی کام ہے۔ استاد مطہری واجب نمازوں کے علاؤہ نوافل کا خاص خیال رکھتے تھے، خاص طور پر نماز شب کا اور نماز شب کو آہ و زاری و گریہ اور مناجات کے ساتھ ادا کرتے تھے، نماز شب کے وقت اپنے دوستوں کو یہ کہہ کر جگاتے تھے: "سوئیں نہیں، اس سے شیطان خوش ہوتا۔”

آیت اللہ العظمی خامنہ ای مد ظلہ فرماتے ہیں کہ: "یہ شخص آدھی رات کو آہ و زاری کے ساتھ نماز شب پڑھتا تھا اور اس طرح گریہ کرتا تھا کہ اس کی آواز سے لوگ نیند سے بیدار ہو جاتے تھے۔”(3) آپ کے ایک دوست نقل کرتے ہیں: "آپ نماز شب، ذکر خدا میں، شب بیداری اور خدا سے راز و نیاز کے بہت پابند تھے۔ شروع ہی سے مجھے نماز شب کی تاکید کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ "نماز شب سے انسان میں معنویت پیدا ہوتی ہے اور روح کو تازگی ملتی ہے۔” میں یہ بہانہ بنا دیتا تھا کہ مدرسہ کے حوض کا پانی گندہ اور کھارا ہے، اس سے میری آنکھوں کو نقصان ہوتا ہے۔ ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی مجھے بیدار کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے میں عثمان بن حنیف مولائے کائنات کا نمائندہ ہوں، مولا نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اٹھو اور نماز شب پڑھو اور یہ یہ خط تمہارے لئے دیا ہے۔ میں نے اس خط کو  کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا: (ھذہ برائۃ من النار یعنی یہ جہنم سے نجات کا پروانہ ہے)۔ اچانک میری آنکھ کھل گئی تو میں نے دیکھا کہ شہید مطہری مجھے جگا رہے ہیں، ان کے ہاتھ میں پانی کا ایک لوٹا ہے۔ آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں "اٹھو اور آج تمہارا یہ بہانہ نہیں چلے گا، اس لیے کہ یہ پانی میں نہر سے بھر کر لایا ہوں۔

3۔ مضبوط ارادہ:

دینی اقدار کی بقا میں ثابت قدمی خدا کے خاص بندوں کے عزم محکم اور قوی ارادہ کی دلیل ہے۔ جب تک کوئی ثابت قدم نہ ہو، وہ کبھی بھی اپنے ہدف کو حاصل نہیں کرسکتا۔ اسی طرح شہید مطہری کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ قرآن اور اسلام کی حمایت میں پوری دقت کے ساتھ میدان میں آجاتے تھے، آپ کو اسلام کے بارے میں کسی بھی طرح کا انحراف برداشت نہیں تھا، ملحدانہ اور منافقانہ فکر کے مقابل میں اپنے پورے وجود کے ساتھ ڈٹ جاتے تھے اور کبھی اپنے ارادہ کو کمزور نہیں پڑنے دیا۔ ایک بار اپنے دوستوں سے فرمایا: "میں ان منافقوں سے مقابلہ کرونگا، ممکن ہے کہ یہ لوگ مجھے قتل کر دیں، لیکن مجھے جو کہنا ہے، وہ کہتا رہوں گا۔ اس لئے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ اسلام کے لئے خطرناک ہیں۔”

 

ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پمفلٹ نکالتے رہیں اور ان لوگوں کے بارے میں دینی نظریہ لوگوں کے سامنے واضح کرتے رہیں۔(4) استاد مطہری دوغلے قسم کے حریت پسند افراد کی ان موزی حرکتوں کے سامنے پوری قوت اور مضبوطی کے ساتھ ڈٹ گئے، جو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے اوائل ہی میں اس انقلاب کی اسلامی صورت کو مسخ کرنے کی غرض سے انجام دی جا رہی تھیں، اس سلسلے میں آپ کو مخالفتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا اور اذیتوں کا بھی، لیکن آپ کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی۔

4۔ شہید مطہری کی دور اندیشی:
شہید مطہری ایک دور اندیش اور مستقبل پر نظر رکھنے والے مفکر تھے۔ کوئی بھی کام بغیر سوچے سمجھے انجام نہیں دیتے تھے، ہمیشہ غور و فکر کیا کرتے تھے۔ اس بات پر نظر رکھتے تھے کہ کس کام میں کس وقت کس سے اور کس طرح کام لیا جائے، کس گروہ سے کام لینا چاہیئے اور کس گروہ سے کام نہیں لینا چاہیئے۔ اسی وجہ سے آپ کی ایک صفت یہ تھی کہ آپ مستقبل کے حادثات کے بارے میں مطمئن رہتے تھے، آپ ایرانی انقلاب کے سلسلے میں بھی ہر کسی سے مدد لینے کے قائل نہیں تھے۔ آپ کہتے تھے کہ ہمارا مقصد شاہ کو ایران سے بھگانا نہیں ہے بلکہ اسلام کو رائج کرنا ہے، لہذا ایسے لوگوں کو اپنے سے دور کرنا چاہیئے، جو بظاہر تو ہمارے موافق ہوں، لیکن درحقیقت اسلامی انقلاب کے بعد بھی اسلامی قوانین کا اجراء نہیں ہو پائے گا اور بے دین لوگ یہ نعرہ لگاتے پھریں گے کہ ہم نے انقلاب برپا کیا ہے، اس بارے میں آیت اللہ مہدوی کنی فرماتے ہیں: استاد مطہری دس سال کی بات کو ہم سے پہلے سمجھ لیتے تھے۔ (5)

امام خمینی کے بعد جس نے سب سے پہلے منافقوں اور مارکسیٹوں کی جماعت کی حقیقت کو جانا، وہ شہید مطہری ہی کی ذات تھی۔ آپ اسلامی معارف نئے مکاتب فکر کے مختلف گروہوں کی کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کرتے تھے، اسی وجہ سے آپ نے سب سے زیادہ ان لوگوں کو پہنچانا، کیونکہ آپ نے ان لوگوں کی کتابوں کا بھی مطالعہ کیا تھا، ان کی سوچ اور ان کے مقاصد سے واقف تھے۔ آپ کی دور اندیشی ذہانت اور مستقبل پر نظر کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ آپ ہمیشہ اپنے دوستوں کو مہدی ہاشمی سے خبردار رہنے کی تلقین کرتے رہتے تھے اور یہ کہتے تھے یہی شخص "مرحوم شمس آبادی” کا قاتل ہے۔ کئی سال بعد اس کی حقیقت کھل کر سامنے آئی اور وہ پکڑا گیا، اس کا جرم ثابت ہوگیا اور پھانسی پر چڑھایا گیا۔ خلاصہ یہ کہ آپ دوسروں سے جلدی خطروں کو بھانپ لیتے تھے، جس کے نتیجے میں پہلے ہی سے ان سے مقابلہ کرنے کی پلاننگ بنا لیتے تھے۔

نتیجہ:
شہید مرتضیٰ مطہری کے اندر وہ تمام خصوصیات جمع تھی، جن کی قرآن و سنت نے تاکید کی ہے۔  ایمان، اخلاص، عمل صالح، بابصیرت، باصلاحیت، شجاعت، دیانت، دلیری، حکیم، مبلغ، مجاہد، شہادت سے عشق، تقویٰ و پرہیزگاری یہ تمام خصوصیات آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ آج بھی اگر کوئی جوان اسلام کو اس کی گہرائی سے سمجھنا چاہے تو آپ کے علمی آثار اور کتب آپ کی جگہ لیتی ہے۔ جس کی تاکید امام راحل اور رہبر حکیم نے بار بار کی ہے۔ ہمیں بھی اس چیز کی ضرورت ہے کہ شہید کے آثار سے رہنمائی لیتے ہوئے ان کو اپنا علمی، فکری، معنوی استاد بنائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالاجات:
1۔ اسرارِ نماز
2۔ سورہ مریم، آیت: 51
3۔ مثالی لوگ/شہید مطہری ص،57
4۔ شہید مطہری ص، 60
5۔ شہید مطہری

مزید پڑھیے

Most Popular