
حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ مزاحمت ہر قسم کی دھمکیوں اور جارحیت کے خلاف مضبوطی سے کھڑی ہے اور جب بھی ضرورت پڑی مناسب اقدام کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔
سید حسن نصر اللہ اور سید ہاشم صفی الدین کے تاریخی جنازے کی پہلی برسی کے موقع پر خطاب میں شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ یہ ایک مشکل مرحلہ ضرور ہے، مگر ہم نے صبر اور استقامت کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے۔ وقت آنے پر کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ہماری راہ واضح ہے، زمین ہماری ہے اور دفاع و مزاحمت ہمارا جائز حق ہے۔ ہم ثابت قدم رہیں گے اور ہر دو صورتوں کے لیے تیار ہیں، یا تو فتح یا شہادت۔ قربانیوں کے باوجود شکست کی کوئی گنجائش نہیں، اور فتح صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ انہوں نے شہید رہنماؤں کے تاریخی جنازے کو لبنان اور خطے کی تاریخ کا ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں افراد کی شرکت نے مزاحمت کی جڑوں کو اجاگر کیا۔ ان کے بقول یہ اجتماع عہد کی تجدید اور مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا عملی مظاہرہ تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنازہ سیکیورٹی حالات بہتر ہونے تک مؤخر کیا گیا تھا تاکہ باوقار تقریب منعقد کی جا سکے۔ شیخ نعیم قاسم نے اسرائیل کو ایک متکبر اور نوآبادیاتی طرز کا نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے ابتدا میں برطانیہ نے پروان چڑھایا اور اب اسے امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو امریکا مغربی ایشیا میں اپنے مفادات کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے تاکہ خطے کی اقوام کو زیرِ نگیں رکھا جا سکے اور فلسطینی کاز کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا، مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو ماننا، نام نہاد دو ریاستی حل سے دستبرداری، غزہ پر امریکی پشت پناہی میں جاری جنگ، اور مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع — یہ سب مغربی ایشیا پر طاقت کے ذریعے کنٹرول کے امریکی فیصلے کی نشانیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کے خلاف جارحیت بھی اسرائیلی حملوں کے ذریعے اسی امریکی بالادستی کے قیام کی کوشش تھی۔ شیخ نعیم قاسم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن بذریعہ طاقت پالیسی کو نوآبادیاتی سوچ اور فوجی قوت کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “گریٹر اسرائیل” منصوبہ امریکی بالادستی سے جڑا ہوا ہے، جس میں اسرائیل کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اور جہاں وہ ناکام ہو وہاں امریکا براہِ راست مداخلت کرتا ہے، جیسا کہ ایران کے معاملے میں دیکھا گیا۔


































