
کابل: مغربی افغانستان کے صوبہ ہرات میں ہزارہ برادری کے بارہ افراد کوشہید کردیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی نے پھر سر اٹھالیا ہے۔ ہرات کے ضلع انجیل کے علاقے دیہ مہری گاؤں میں مسلح افراد نے مقامی مزار کی زیارت کے بعد پکنک منانے والوں کو نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکل سواروں نے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ گولیاں لگنے سے بیس افراد زخمی بھی ہوئے شہدا میں ایک بچہ اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔ طالبان حکام نے مرنیوالوں کی تعداد سات بتائی ہے جبکہ مقامی ڈاکٹر نے بتایا کہ بارہ لاشوں اور بیس زخمیوں کو اسپتال لایا گیا۔ جس میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔
طالبان حکام نے ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے جبکہ تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔


































