
تحریر: سید اسد عباس
ہیلی کاپٹر(Bell 212) امریکی کمپنی بیل ہیلی کاپٹر کی مشین ہے، جو اس کمپنی نے کینیڈا کے کہنے پر 1968ء میں فوجی مقاصد کے لیے بنایا تھا۔ یہ ہیلی کاپٹر بنیادی طور پر دو پروں اور دو انجنوں کا حامل درمیانہ ہیلی کاپٹر ہے، جسے دنیا کے محفوظ ترین ہیلی کاپٹروں میں سے سمجھا جاتا ہے۔ ایویشین کے ماہرین کے مطابق اس مشین کے دو انجن اس کی مختلف موسمی حالات اور مختلف نوعیت کے مشنز میں صلاحیتوں کو بہت بڑھا دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اس کا ایک انجن بند ہو، تب بھی ایک انجن آدھی طاقت کے ساتھ تیس منٹ تک پرواز کرسکتا ہے۔ اگر ناگہانی صورتحال میں دنوں انجن بند بھی ہو جائیں تو یہ ہیلی کاپٹر با آسانی آٹو روٹیٹ کے ذریعے زمین پر لینڈ کرسکتا ہے۔ آٹو روٹیٹ سے مراد انجن کے بغیر ہیلی کاپٹر کے پروں کا ہوا کے دباؤ سے خودکار طریقے سے گھومنا ہے، جس میں پائلٹ پروں کے زاویے کو بدل کر با آسانی لینڈنگ انجام دے سکتا ہے۔
بیل ہیلی کاپٹر سامان اور فوجیوں کی ترسیل نیز خراب موسمی حالات میں انجام پانے والے مشنز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 1988ء میں بیل کمپنی کی مینوفیکچرنگ کو کینیڈا میں شفٹ کیا گیا تھا۔ بیل 212 کو کامیاب فوجی سروس کے بعد سول اداروں کو بھی فروخت کیا گیا۔ ناروے نے اس ہیلی کاپٹر کو آف شور ڈرلز کے لیے خریدا، یہ مشین انتہائی شدید موسمی حالات کے لیے بھی محفوظ مانا جاتا ہے۔ اے ایس این ایوی ایشن سیفٹی ڈیٹا بیس کے مطابق 1968ء سے 2024ء تک بیل 212 کے ساتھ کل 430 ٹیکنیکل واقعات ہوئے ہیں، جن میں اموات کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ بیل ہیلی کاپٹر اس وقت بھی آئل کمپنیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریسکیو مشنز کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ ان اداروں میں کینیڈین کوسٹ گارڈ، بوسنیا کی انویسٹیگیشن ایجنسی، کروشیا پولیس، کولمبیا پولیس، ائیر گرین لینڈ، ریاست ایران، جاپان کوسٹ گارڈ، میسی ڈونین پولیس، سربیا پولیس، سولوینیا پولیس، تھائی پولیس، امریکہ کی دو ریاستوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فائر ڈیپارٹمنٹ شامل ہیں۔
ایران نے یہ ہیلی کاپٹر شاہ ایران کے دور میں امریکہ سے حاصل کیے تھے۔ ایران پر پابندیوں کے باعث اسے ان ہیلی کاپٹروں کے سپیئر پارٹس حاصل کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا رہا، لیکن اس کے باوجود ایران نے اس کے بعض پرزے خود بنائے اور بعض پرزے بلیک مارکیٹ سے خریدے۔ ظاہر ہے کہ صدر ایران کے استعمال میں لایا جانے والا ہیلی کاپٹر فلیٹ کا سب سے بہترین ہیلی کاپٹر ہوگا۔ کل یعنی 19 مئی 2024ء کو ایران میں اسی بیل 212 پر ایک المناک حادثہ وقوع پذیر ہوا، جس میں ایران کے صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ ایران حسین امیر عبد اللہیان، امام جمعہ تبریز آیت اللہ سید آل ہاشم، گورنر تبریز، سکیورٹی اہلکار اور ہیلی کاپٹر کا عملہ موجود تھا۔ اس ہیلی کاپٹر کی سٹنگ کیپسٹی 15 افراد ہے، اگر تعداد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سواروں کی تعداد سٹنگ کیپسٹی سے زیادہ نہ تھی۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ حادثہ موسمی حالات کے وجہ سے پیش آیا، حالانکہ صدر رئیسی کے اس کاروان میں دو مزید ہیلی کاپٹر بھی موجود تھے، جو دونوں اسی موسم میں اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ صدر رئیسی نے کل ایران کے صوبے آذربائیجان شرقی کا دورہ کیا، جہاں آذربائجان کے صدر اور صدر رئیسی نے مل کر ایک چھوٹے ڈیم کا افتتاح کیا۔ ڈیم کا افتتاح کرنے کے بعد صدر رئیسی کا قافلہ ایران کے صوبے تبریز گیا، تبریز سے واپسی پر عصر کے وقت ان کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا، جس کا ملبہ اگلے روز صبح تلاش کر لیا گیا اور اطلاع ملی کہ اس ہیلی کاپٹر میں موجود تمام سوار شہید ہوچکے ہیں، جس میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی، حسین امیر عبداللہیان ملک کے اہم ترین عہدیدار تھے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر رئیسی جس روز سے منصب صدارت پر آئے ہیں، ان کا معمول تھا کہ قومی چھٹی یعنی جمعہ کے روز وہ ایران کے کسی ایک صوبے کا دورہ کرتے تھے اور وہاں مختلف پراجیکٹس کا دورہ کرتے تھے، عوام سے بالمشافہ ملاقات کرتے تھے اور یہ سلسلہ ان کی شہادت تک مسلسل جاری رہا۔ اس حادثے کی یقیناً تحقیقات کی جائیں گی، کیونکہ جیسا کہ سول ایویشن کے ماہرین اس ہیلی کاپٹر کے بارے بتا رہے ہیں، بہت کم امکان ہے کہ اس ہیلی کاپٹر کو کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے، جس میں کوئی سوار نہ بچ پائے۔ اگر اس ہیلی کو آٹو روٹیٹ پر بھی جانا پڑتا تو یقیناً پائلٹ کنڑول روم کو بتا سکتا تھا کہ مجھے کسی فنی خرابی کا سامنا ہے۔ میں ہیلی کاپٹر کو آٹو روٹیٹ پر لے جا رہا ہوں، لیکن اچانک سے پائلٹ کا مواصلاتی رابطہ منقطع ہو جانا تشویش کو جنم دیتا ہے۔
آذربائیجان شرقی اور تبریز میں کل موسم ابر آلود تھا نیز شدید دھند تھی، لیکن اسی ابر آلود موسم اور دھند میں اسی نسل کے دوسرے ہیلی کاپٹر آسانی سے اپنی پرواز مکمل کرکے منزل مقصود پر پہنچے۔ یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں اور گھاٹیوں میں ہیلی کاپٹر کو اڑانا کافی تھکا دینے والا کام ہے۔ رفتار میں اتار چڑھاؤ کے سبب ہیلی کاپٹر کا کنڑول ختم ہوسکتا ہے، دھند انتہائی خطرناک ہے، اسی کے سبب 1994ء میں ایک حادثہ پیش آیا تھا، جس میں برطانوی فوج کے پچیس افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ایجنسی کے مطابق پہاڑی علاقوں میں آپ کو بلندی پر پرواز کرنی چاہیئے، تاکہ موسمی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
یقیناً یہ تمام وجوہات حادثے کا سبب ہوسکتی ہیں، تاہم صدر رئیسی کے پائلٹ سے ان مسائل کے بارے نا آگاہی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ زیادہ سے زیادہ اگر موسمی حالات زیادہ خراب ہو جائیں تو پائلٹ ہیلی کاپٹر کو یا بلند کرسکتا ہے یا واپس لا سکتا ہے، اگر دونوں ممکن نہ ہوں تو آٹو روٹیٹ کا آپشن تو کہیں نہیں گیا۔ ہیلی کاپٹر کو لینڈ کرنے کے لیے زیادہ جگہ بھی درکار نہیں ہے، وہ تھوڑی سے ہموار جگہ پر اتر سکتا ہے، تاہم صدر رئیسی کے پائلٹ نے اپنے رابطے کے دوران میں کسی بھی ناگہانی صورتحال کا عندیہ تک نہیں دیا۔ درج بالا حقائق کے تناظر میں اس حادثے میں دہشت گردی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ یقیناً ایرانی ذمہ داران اس عنوان سے تحقیقات کریں گے اور اس سلسلے میں ایوی ایشن کے عالمی اداروں سے بھی مدد لی جانی چاہیئے، تاکہ ہیلی کاپٹر کے پہاڑ سے ٹکرانے کی وجوہات کو جانا جا سکے۔
اس واقعہ کا وقت اور حالات بھی دہشت گردی کے امکانات کو بڑھاتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل ایران نے اسرائیل پر بڑا میزائل اور ڈرون حملہ کیا ہے، جس کا اسرائیل نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا تھا۔ اگرچہ اسرائیل نے اس واقعہ کے حوالے سے بھی کمنٹ نہیں کیا ہے، تاہم موساد کی کارروائیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس امکان کو یکسر رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل کے آذربائیجان کی حکومت سے گہرے تجارتی اور سفارتی تعلقات ہیں، باکو میں اسرائیلی مراکز موجود ہیں، ایران کے سرحدی علاقوں میں اسرائیلی فورسز فعال ہیں، لہذا ایسی صورتحال میں کسی حملے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
ظاہراً تو یہ موسمی حالات کے سبب ہونے والا حادثہ دکھائی دے رہا ہے، تاہم یقیناً ایرانی ذمہ داران اس کی تمام تفصیلات پر تحقیق انجام دیں گے۔ اس عنوان سے روسی آرمی چیف نے تحقیقات کے لیے ایران کو اپنی مدد کی یقین دہانی کروائی ہے اور جنرل باقری نے بھی تحقیقات کا آغاز کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان تحقیقات کا کیا نتیجہ سامنے آتا ہے۔ خداوند کریم ملت ایران کو اس جانکاہ صدمے میں صبر جمیل عطا فرمائے اور شہدائے خدمت نیز ان کے خاندانوں کو اجر جزیل دے۔ آمین


































