
موجودہ صورتحال عالمی جنگ سے زیادہ خطرناک ہے،اشرافیہ اور مفکرین متوقع تبدیلیوں پر غور کریں،دنیا میں صحت اور سرمایہ دارانہ نظام سے متعلق بحث چھڑی ہوئی ہے
معلوم نہیں امریکا متحد اور یورپی یونین برقرار رہ سکے گی،اس عالمی وبا سے دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے،تقریب سے خطاب
بیروت (نیوز ڈیسک) حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے امریکی حکومت کو کورونا وائرس کے مقابلے میں کمزور قرار دیا، ایک تقریب سے خطاب میں سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ دنیا موجودہ حالات میں کورونا کو شکست دینے کے بعد ایک نیو ورلڈ آرڈر یا نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھ سکتی ہے،انہوں نے کورونا کے خلاف جاری جنگ کو طویل المدت قرار دیتے ہوئے دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک مشترکہ دشمن کی حیثیت سے اس وائرس کا مقابلہ کریں،انہوں نے کہا کہ دنیا گذشتہ صدیوں میں بے مثال متعدی وائرس کے خلاف لڑائی میں ایک نئے تجربے سے گذر ر ہی ہے،موجودہ صورتحال عالمی جنگ سے زیادہ خطرناک ہے، انہوں نے اشرافیہ اور مفکرین پر زور دیا کہ وہ تیزی سے پھیلتی وبا سے ہونے والی بڑی تبدیلیوں کا مشاہدہ کریں، جن کے نتائج پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سے زیادہ تکلیف د ہ ہوسکتے ہیں اور یہ ایک نیا عالمی نظام کی تشکیل کا سبب بن سکتی ہے،انہوں نے بحران کے نتیجے میں امریکا اور یورپی یونین کے مستقبل کے بارے میں مزید سوالات اٹھائے،انہوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ امریکا متحد رہے یا نہیں،اور یورپی یونین اپنا وجود برقرار رکھ پائے گی، اس وقت دنیا میں صحت کے نظام اور معاشی سرمایہ دارانہ نظام سے متعلق بحث چھڑی ہوئی ہے، حسن نصراللہ نے کہا کہ وبا نے دنیا کو الجھن میں ڈال دیا یہ لوگوں میں موت بانٹ رہی ہے،دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے، حسن نصراللہ نے اس الجھن کا بھی حوالہ دیا کہ جس کا ٹرمپ انتظامیہ کوکورونا وائرس پھیلنے کے تناظر میں اپنے متضاد موقف کا سامنا ہے،اس چھوٹے سے وائرس نے اب تک تین ارب لوگوں کو گھروں میں قید کردیا ہے، کیا اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم اس کو سمجھنے میں اپنی نااہلی کو روکیں اور اس پر غور کریں؟،انہوں نے بیرون ملک سے لبنانی شہریوں کی بحفاظت واپسی اور سعودی عرب سے یمن میں جارحیت روکنے پر زور دیا۔


































