Sun Oct 11, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

حماس نے 90 فیصد سے زائد علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا

غزہ : حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد دوبارہ داخلی کنٹرول مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے اور نوے فیصد سے زائد علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد غزہ کی تباہ حال صورتحال میں حماس کی عسکری ساخت ٹوٹ کر گوریلا طرز کی کارروائیوں تک محدود ہو چکی تھی اور اس کی بڑی قیادت ماری گئی تھی۔ تاہم چار ماہ بعد مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حماس نے نوّے فیصد سے زائد علاقوں میں سکیورٹی، پولیس گشت اور انتظامی ڈھانچے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ شہریوں کو شناختی کارڈ، صحت سے متعلق امور اور عدالتی معاملات کے لیے دوبارہ حماس کے زیرانتظام اداروں سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔ بازاروں میں تاجروں کا کہنا ہے کہ باقاعدہ پولیس گشت اور سرکاری فیسوں و ٹیکسوں کی سخت وصولی دوبارہ شروع ہو چکی ہے، اور ادائیگی سے انکار پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ٹیکس نقد رقم میں وصول کیے جا رہے ہیں تاکہ مالی لین دین کا سراغ نہ لگایا جا سکے اور پرانا نظام خاموشی سے بحال کیا جا سکے۔ دوسری جانب حماس کے ترجمان کا مؤقف ہے کہ ہنگامی حالات کے باعث غیر معمولی اقدامات ضروری ہیں اور یہ اقدامات حکومتی نوعیت کے ہیں، کسی تنظیمی مفاد کے لیے نہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular