
تل ابیب : اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کا مطلب تمام ہتھیاروں سے دستبرداری ہے۔ صرف بھاری اسلحہ چھوڑنا کافی نہیں۔ بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیل میں کانفرنس آف پریزیڈنٹس لیڈر شپ مشن سے خطاب میں کہا کہ غزہ میں بھاری ہتھیار عملاً موجود ہی نہیں، نہ توپ خانہ ہے نہ ٹینک۔ ان کے مطابق سب سے مہلک ہتھیار اے کے فورٹی سیون رائفل ہے، جسے حماس حملوں میں استعمال کرتی ہے۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ حماس کے پاس ساٹھ ہزار رائفلیں موجود ہیں جنہیں ختم کرنا ہوگا، ساتھ ہی راکٹ اور آر پی جی بھی علاقے سے باہر لے جانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کو غیر مسلح بنانے کے لیے حماس کی باقی ماندہ تین سو پچاس کلو میٹر سرنگوں کو تباہ کرنا اور اسلحہ ساز کارخانوں کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق مکمل غزہ کا غیرعسکری ہونا ہی خطے میں پائیدار سلامتی کی ضمانت بن سکتی ہے۔ نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور یورپ میں بڑھتی یہود دشمنی صدیوں پرانے نفرت انگیز رجحان کا تسلسل ہے۔ اس کا مؤثر جواب مضبوط یہودی ریاست کے سہارے منظم مزاحمت ہے۔


































