
جب تک کرونا وائرس سے پیدا ہونے والے حالات ٹھیک نہیں ہوجاتے مسلمان ممالک اس وقت تک حج وعمرہ کے معاہدے نہ کریں،سعودی وزیر صحت
سعودی عرب عازمین عمرہ کو کسی بھی وقت آنے کی اجازت دے سکتا ہے، عمرہ نہ کرنے والوں کی رقوم واپس کی جاچکی ہیں،مسلم ممالک صبر سے کام لیں
جدہ (نیوزڈیسک) سعودی عرب میں کروناوائرس پھیلنے کی وجہ سے عمرے کے بعد حج بھی خطرے میں پڑگیا ہے،سعودی حکام نے تمام ممالک کو حج اور عمرہ سے متعلق معاہدوں سے روک دیا ہے، وبا کی وجہ حرم کو پہلے ہی بند کیا جاچکا ہے، وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن نے مسلمان ممالک سے کہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال واضح ہونے تک حج اور عمرہ سے متعلق معاہدوں کے حوالے سے صبرسے کام لیں،حکومت عمرہ اور حج دونوں کے لیے پوری طرح تیاری کررہی ہے مگر عازمین کی سلامتی ہرچیز پرمقدم ہے، جب تک کرونا سے پیدا ہونے والے حالات ٹھیک نہیں ہوجاتے مسلمان ممالک اس وقت تک حج وعمرہ کے معاہدے نہ کریں،انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عازمین عمرہ کو کسی بھی وقت آنے کی اجازت دے سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ عمرہ نہ کرنے والوں کی رقوم واپس کی جاچکی ہیں، سعودی عرب نے بھی ایران پر کورونا پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ شیعہ اکثریتی صوبے کے افراد بحرین کے راستے ایران سے سعودی عرب پہنچے اور اپنے ساتھ وائرس لیکر آئے لیکن تازہ ترین اعداد وشمارکے مطابق سب سے زیادہ کورونا کے کیس دارلحکومت ریاض، جدہ،دمام میں پائے گئے ہیں اور قطیف میں صرف 7کیس سامنے آئے ہیں۔


































