
نیک کلام
لوگوں سے اچھی باتیں کرو
بہار کا موسم تھا۔ بچے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ اچانک گیند دور چلی گئی۔ مجتبی گیند لینے گیا تو اس نے ایک فقیر شخص کو دیکھا کہ جس نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ اس نے مجتبی سے کھانے کے لیے پیسے مانگے۔ مجتبی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے؟
وہ کچھ دیر رکا اور اس شخص سے کہنے لگا: چچا جان! میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں لیکن ابھی میرے پاس پیسے نہیں۔ اگر تھوڑا سا صبر کرو تو گھر سے تمہارے کچھ کھانے کا لے آتا ہوں۔
فقیر نے کہا: بیٹا تمہارا بہت شکریہ، رہنے دیں۔
مجھ سے تم اس قدر محبت اور مہربانی سے پیش آئے ہو میرے نزدیک اس کی قدر پوری دنیا کے سونے سے بھی زیادہ ہے۔ جاؤ! خداوند کریم تمہارا محافظ ہو۔
اس کے بعد مجتبی خوشی خوشی اپنے دوستوں کے پاس آیا اور دوبارہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہو گیا


































