
آیتالله حائری شیرازی
نصیحت کے سنہری مواقع
بچوں کو نصیحت کرنے کے لیے سب سے بہترین وقت وہ ہوتا ہے جب وہ خود آپ کے پاس کسی دکھ یا شکایت کے ساتھ آتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ان کا دل نرم اور ذہن سیکھنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔
مثال: اگر بچہ آ کر کہے:
"گلی کے کسی بچے نے مجھے گالی دی!”
تو بجائے فوراً ردعمل دینے کے، پہلے اس کے جذبات کو سمجھیں:
"کیا تمہیں بہت دکھ ہوا؟ کیا دل کو تکلیف پہنچی؟”
جب بچہ جواب دے "ہاں!” تو پھر نرمی سے سمجھائیں:
"دیکھو، اگر تم کسی کو گالی دو گے تو اسے بھی بالکل ایسا ہی دکھ پہنچے گا۔”
یہی وہ موقع ہے جب وہ دل سے ظلم کی برائی کو محسوس کرے گا اور اس سے بچنے کا عہد کرے گا۔
ایسا ہی ایک اور سنہری موقع:
اگر کوئی بچہ راستے میں گم ہو جائے اور کوئی اسے ماں تک پہنچا دے، تو وہ بے حد خوش اور شکر گزار ہوگا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب آپ کہہ سکتے ہیں:
"دیکھو! تمہیں کسی نے سہارا دیا، کسی نے تمہاری مدد کی، اب جب تمہیں موقع ملے تو تم بھی کسی کو سہارا دینا!”
یہ نصیحت دل میں اتر جائے گی، کیونکہ وہ خود ایک تجربے سے گزر چکا ہے۔
نصیحت کا صحیح وقت:
جب بچہ آپ پر اعتماد کرے، تب نصیحت کریں،
لیکن اگر وہ بدگمان ہو، تو اس وقت نصیحت نہ کریں، کیونکہ وہ اثر نہیں کرے گی۔
حکمت سے دی گئی نصیحت دل میں اترتی ہے، موقع سے دی گئی نصیحت زندگی بدل دیتی ہے!


































