
تحریر: محمد کاظم انبار لوئی
1۔ غزہ کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں لینے کے اعلانیہ مقصد کے ساتھ صیہونی حکومت نے آدھی تباہ شدہ بلند عمارتوں اور بلند ٹاوروں پر شدید بمباری کرکے سینکڑوں بے گناہ فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ صیہونی جنگی مشین دو سال سے غزہ میں پھنسی ہوئی ہے۔ دوسری طرف یہ حکومت اس وقت بدترین جنگی جرائم کا ارتکاب کرکے دنیا میں سب سے زیادہ قابل نفرت ریاست بن چکی ہے۔ گذشتہ دو سالوں کے دوران 5 براعظموں کی اقوام کا احتجاج ایک انقلابی عمل میں تبدیل ہو رہا ہے اور اس عمل میں عالمی بیڑے کا کردار مزہد اہم ہوگیا ہے۔
2۔ گلوبل فلیٹ آف ریزسٹنس یا گلوبل سمڈ فلوٹیلا کیا ہے؟
قتل عام کا شکار، قحط زدہ مظلوم فلسطینی عوام تک انسانی خوراک اور صحت کی امداد پہنچانے کے لیے سینکڑوں بحری جہاز اب دنیا بھر کی بعض بندرگاہوں سے غزہ کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ وہ لوگ جو دو سال سے اپنے تباہ شدہ گھروں میں پانی، خوراک یا دوائی کے بغیر رہ رہے ہیں، وہ اپنی سرزمین کے وقار اور آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے بدمعاش، خونخوار اور صہیونی مجرموں کے حملے کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک انسانی امداد لے کر تین بحری جہاز مقبوضہ علاقوں کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔ پہلے بحری جہاز "کان شاس” کو صہیونیوں نے ڈرون سے نشانہ بنایا۔
دوسرے جہاز "میڈلین” کو صہیونیوں نے گھیر لیا اور اس کے مسافروں کو گرفتار کر لیا اور تیسرے جہاز "حنظلہ” کو بھی اسی انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ اب عالمی سول سوسائٹی نے قتل عام اور جنگی جرائم کو روکنے کے لیے سینکڑوں بحری جہازوں اور درجنوں ٹن انسانی امداد کا بحری بیڑا غزہ کے لئے روانہ کیا ہے، تاکہ اس انسانی تحریک کے ذریعے عالمی سطح پر صہیونیوں کے جرائم کو مزید آشکار کیا جاسکے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار صہیونی ریاست عالمی مزاحمتی بیڑے سے نمٹنے کے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کیا نیا ریکارڈ بناتی ہے۔
3۔ امریکہ اور صیہونی حکومت پچھلے دو سالوں میں فلسطینی عوام اور مزاحمتی محاذ کے ساتھ "وجود کی جنگ” میں داخل ہوچکے ہیں۔ مقبوضہ علاقوں میں ’’جنگ بند کرنے‘‘، ’’عارضی جنگ بندی‘‘ اور ’’امن‘‘ کے لیے ’’مذاکرات‘‘ کے آثار کہیں نظر نہیں آتے۔ امریکہ اور مقبوضہ علاقوں میں موجود صیہونی نیز خطے کے عرب ممالک ان فلسطینیوں کی نقل مکانی کے بارے میں سوچ رہے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ ایران اور مزاحمتی محاذ غیر مشروط طور پر فلسطینیوں کی حمایت ترک کر دیں۔
4۔ صیہونی حکومت دو سالوں سے غزہ میں وحشیانہ بمباری اور گھروں کی تباہی کے ساتھ انتہائی گھناؤنے، غیر انسانی اور خونی جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔ اس نے نہ صرف اپنے اہداف حاصل کیے ہیں، بلکہ وہ غزہ میں آئے روز جانی نقصان کا باعث بن رہی ہے۔ یمن کے عوام نیٹو اور صیہونیوں کے جرائم کے خلاف مردانہ وار کھڑے ہوئے ہیں اور حکومت کے ساتھ بالواسطہ اور بالواسطہ تعاون کرنے والے عربوں کی داغدار عزت کا دفاع کر رہے ہیں۔ افغانستان پر 20 سالہ قبضے کے بعد، (جہاں سے وہ بڑی بے شرمی سے نکلا،) اور عراق میں لاکھوں لوگوں کا قتل عام کرکے، امریکہ نے جنگی جرائم کے ارتکاب کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس بار غزہ اور مغربی کنارے کے مظلوم فلسطینی عوام نے امریکی چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
5۔ غزہ کے پانیوں اور مقبوضہ علاقوں کی طرف سینکڑوں بحری جہازوں کے ساتھ عالمی مزاحمتی بیڑے کی نقل و حرکت کا واقعہ آج عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز ہے، اب کوئی بھی واقعہ عالمی رائے عامہ کی توجہ فلسطین کے مسئلے سے ہٹا نہیں سکتا۔ آج فلسطین کا مسئلہ دنیا اور عالم اسلام کا نمبر ایک مسئلہ ہے۔ عالمی مزاحمتی بیڑے کے زیادہ تر مسافروں کا تعلق مغربی ممالک بالخصوص امریکی اور یورپی ممالک سے ہے۔ مغربی سماجی اور سیاسی کارکن نہیں چاہتے کہ مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور گھناؤنے جنگی جرائم کے ارتکاب کا داغ عصری تاریخ میں ان کے نام درج ہو۔ اس لئے وہ اس بحری بیڑے global sumud flotilla میں شامل ہو کر اپنی ساکھ بچانا چاہتے ہیں۔


































