
گھر کے بزرگان کا فریضہ ہے کہ بچوں کی رہنمائی کریں اور اپنی زندگی کے تجربات سے بچوں کو آگاہ کریں لیکن بچوں کی زندگی میں مداخلت مت کریں.
رہبر معظم فرماتے ہیں ” جوانوں کو رہنمائی ضرور کریں لیکن انکی زندگی کی جزئیات میں مداخلت مت کریں اس سے انکی زندگی مشکل ہو جاۓ گی”.
اگر گھر کی بہو کے لیے بیٹا کچھ کرنا چاہتا ہے تو ساس صاحبہ کو یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ میرا بیٹا اپنی بیوی کے لیے کیا کرتا پھرتا ہے اسے سب کچھ میری اجازت سے کرنا چاہئے، شادی کے بعد ماں باپ کا بچوں پر ایک حق ہے اور بچوں کو بھی چاہیے کہ اپنے ماں باپ کو ناراض مت کریں لیکن ماں باپ کو میاں بیوی کے جزئی اور ذاتی زندگی میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں اور اگر میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کا باعث بنے تو شدیدا غلط ہے. اسی طرح سے خاتون کا اپنے سسرال کے چھوٹے موٹے مسائل اور شوہر کے ساتھ تعلقات کو اپنے ماں باپ کے لیے بیان کرنا اور خاتون کے ماں باپ کا یکطرفہ طور پر خاتون کا ساتھ دینا یا سسرال کے خلاف ابھارنا بہت غلط ہے، یہ وہ مسائل ہیں جو ہر گھر میں ہیں ضروری ہے کہ میاں بیوی اپنے اختلاف کو ماں باپ بہن بھائیوں تک نہ پہنچنے دیں کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہر طرف سے یکطرفہ طور پر مرد کے گھر والے اسکی طرفداری کرنے لگ جاتے ہیں اور خاتون کے گھر والے خاتون کی، اولا یہ غلط ہے کہ آپس کی باتیں گھر والوں تک پہنچائی جائیں، دوسرا یہ کہ ماں باپ ہدایت و رہنمائی کرنے کی بجائے بے جا مداخلت کرتے ہیں.
رہبر معظم امام خامنہ ای مدظلہ العالی ایک اور جگہ پر ارشاد فرماتے ہیں "خبردار! بعض لوگ اپنے احساسات و جذبات کی وجہ سے میاں بیوی کے مستحکم رشتے میں دراڑ ڈالیں، اگر انکی بے جا مداخلت میاں بیوی کی زندگی میں اختلاف کو جنم دے رہی ہے تو انکو کوئی حق نہیں ایسی کسی قسم کی مداخلت کرنے کی اجازت نہیں”.
میاں بیوی کے گھر والے فقط رہنمائی کریں، پٹیاں پڑھانے کی اجازت ہرگز نہیں اور نا ہی جزئی مسائل میں مداخلت کریں، نوجوانوں کو انکی زندگی گزارنے دیں اور انکو اپنے فیصلے کرنے میں آزاد چھوڑ دیں.


































