
جرمنی کا فیصلہ مزاحمتی محاذ کے خلاف امریکی ، اسرائیلی جنگ کا حصہ اور خطے پر تسلط کی سازش ہے، اس کا مقصد پورے علاقے میں حزب اللہ کو نشانہ بنانا ہے
جرمنی کے فیصلے سے ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، کچھ دوسری یورپی حکومتیں بھی ایسے اعلان کرسکتی ہیں،حزب اللہ کے سربراہ کا اجلاس سے خطاب
بیروت (نیوز ڈیسک) حزب اللہ کے سربراہ سیدحسن نصراللہ نے جرمنی میں اپنی تنظیم پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے امریکی دباو¿ کا نتیجہ قرار دیا ہے،اپنے حامیوں سے ویڈیو لنک خطاب میں حسن نصراللہ نے کہا کہ جرمنی کا فیصلہ، دراصل خطے میں اسلامی مزاحمتی محاذ کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کا ایک حصہ اور خطے پر تسلط حاصل کرنے کی سازش ہے، اس کا مقصد پورے علاقے میں حزب اللہ کو نشانہ بنانا ہے، جرمنی نے حزب اللہ کے دہشت گرد تنظیم ہونے کا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک سیاسی کھیل ہے جس کا مقصد امریکا اور اسرائیل کو خوش کرنا ہے،سید حسن نصر اللہ نے جرمنی میں مقیم لبنانیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،آپ پر عائد تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقابلہ قانونی طریقوں سے کیا جاسکتا ہے،انہوں نے کہا کہ جرمنی کے اس فیصلے سے ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور ہم اس سازش کا مقابلہ کرتے رہیں گے، جرمنی کی جانب سے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ متوقع تھا اور اس سے پہلے بھی کچھ یورپی حکومتوں نے ایسا اقدام کیا ہے جبکہ کچھ دوسری حکومتیں بھی ایسے اعلان کرسکتی ہیں،انہوں نے حزب اللہ کی جرمنی میں فعالیت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم جرمنی میں فعال نہیں ہیں تو ہم 100 فی صد راست باز ہوتے ہیں،حزب اللہ کے سربراہ نے حکومت پر زور دیا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کو آنکھیں بند کرکے تسلیم نہ کیا جائے اور ایسی شرائط ہرگز نہ مانی جائیں جن کا بوجھ ملک برداشت کرنے کی سکت ہی نہ رکھتا ہو ، حکومت کو مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک موقع ملنا چاہیے، حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ لبنان کے مقامی بینکوں نے گذشتہ برسوں کے دوران میں بہت منافع کمایا ہے،اس لیے انھیں اب مدد کو آگے آنا چاہئے۔


































