
لندن: بین الاقوامی جریدے دی لینسیٹ گلوبل ہیلتھ کی نئی تحقیق نے غزہ میں اموات کے سرکاری اعداد و شمار کو کم قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ مرنے والوں کی تعداد وزارتِ صحت کی تعداد سے پچاس فیصد زیادہ ہے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سات اکتوبر 2023 سے 5 جنوری 2025 کے درمیان پچھتر ہزار دو سو پرتشدد اموات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ اسی مدت کے لیے غزہ کی وزارتِ صحت نے انچاس ہزار نوّے اموات ریکارڈ کی تھیں۔ یعنی تقریباً چھبیس ہزار اموات کا فرق سامنے آتا ہے۔ محققین نے اسی عرصے میں 16 ہزار 300 غیر پُرتشدد اموات کا تخمینہ بھی لگایا، جن میں سے تقریباً 8 ہزار 540 اموات کو صحت کے نظام کی تباہی، جبری بے دخلی اور ابتر حالاتِ زندگی سے جوڑا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 12 ہزار 200 افراد لاپتا ہیں، جن کی اکثریت 18 سے 64 سال کے مردوں پر مشتمل ہے، جبکہ حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں میں 56 اعشاریہ 2 فیصد خواتین، بچے اور بزرگ شامل تھے، جن میں 22 ہزار 800 بچے بھی شامل ہیں۔


































