
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
جب بھی اعلان بالفور کا ذکر آتا ہے تو اذہان میں خود ہی مسئلہ فلسطین اور سرزمین مقدس کی تقسیم کا مسئلہ ابھر آتا ہے۔ جی ہاں سنہ 1917ء میں برطانوی سیکرٹری خارجہ آرتھر جیمز بالفور نے فلسطین کو یہودیوں کے لئے ریاست بنانے کی تجویز حکومت برطانیہ کو بھیجی۔ اس اعلامیہ کو تاریخ میں ایک سیاہ اعلامیہ کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ گذشتہ تحریروں میں بھی اس اعلامیہ سے متعلق کافی کچھ بیان کیا جا چکا ہے۔ بہرحال اس مقالہ میں ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اعلان بالفور سے اعلان نیو یارک تک کی تاریخ میں فلسطینیوں کو کیا حاصل ہوا۔؟ فلسطین کے لئے دو ریاستوں کا حل تجویز کرنے والوں نے آخر آج تک فلسطین کو کیا دیا ہے۔؟ اسی طرح کیا حالیہ دنوں میں جو کچھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی آزاد ریاست کے تسلیم کے عنوان سے دو ریاستی حل کی گونج سنائی دے رہی ہے، آخر کیا واقعی یہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے میں کوئی کردار ادا کرسکتی ہے۔؟
سنہ 1917ء میں بالفور اعلامیہ جاری ہوا، سنہ 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کہ جس کی قرارداد لازمی بائنڈنگ نہیں ہوتی، اسکے باوجود بھی قرارداد نمبر 181 پر عمل کرکے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس تقسیم نے فلسطینیوں کی جہاں نسل کشی کا آغاز کیا، وہاں ساتھ ساتھ سنہ1948ء میں فلسطینی عوام کی بڑے پیمانے پر ہجرت کو بھی پروان چڑھا دی۔ لاکھوں فلسطینیوں کو ایک ہی دن یعنی 15 مئی سنہ1948ء کو فلسطین سے بے گھر اور جبری جلا وطن کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے آج تک غاصب صیہونیوں کی فلسطین کے مختلف علاقوں میں آبادکاریاں مسلسل جاری ہیں۔ سنہ1948ء میں 11 دسمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک اور قرار داد (194) پیش کی گئی، جس میں فلسطینی عوام کے حق واپسی کو یقینی بنانے کی بات کی گئی کہ جنہوں مئی 1948ء میں نکالا گیا تھا، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جس جنرل اسمبلی ک قرارداد پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل جیسی ناجائز ریاست قائم کر دی گئی، اس جنرل اسمبلی نے آج تک فلسطینیوں کے حق واپسی کو یقینی بنانے کے لئے کوئی عملی کوشش ہی نہیں کی۔
یہاں پر یہ بات واضح رہے کہ دو ریاستی حل کو مسترد کرنے والا ایران واحد ملک ہے کہ جو آج بھی اسی قرارداد کی روشنی میں فلسطینیوں کے حق واپسی کا مطالبہ کرتا ہے اور ریفرنڈم کے ذریعے فلسطین کے مستقبل کے فیصلہ کو ترجیح دیتا ہے۔ بہرحال فلسطین پر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ناپاک وجود کے بعد سے فلسطین کی صورتحال بگڑتی چلی گئی اور بات سنہ1967ء کی جنگ تک جا پہنچی، جنگ کے خاتمہ کے بعد اسرائیل نے مزید فلسطینی زمینوں پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر سے ہزاروں فلسطینیوں کو جبری طور پر مہاجر بننے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ میں ایک اور قرارداد (242) 22 نومبر 1967ء کو پیش کی گئی اور اس قرارداد میں فلسطینی زمینوں کی واپسی کی بات کی گئی، لیکن قرارداد کو اسرائیل نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور آج تک فلسطینیوں کو ان کی زمینیں واپس نہیں دی گئی ہیں۔
وقت آگے بڑھا اور سنہ1973ء میں ایک مرتبہ پھر سے عرب اسرائیل جنگ ہوئی اور اس مرتبہ بھی اسرائیل جو پہلے سنہ1967ء میں القدس کے علاقہ پر قابض ہوچکا تھا، اب شام، لبنان اور مصر کے علاقوں پر بھی قابض ہوگیا۔ اس جنگ کے اختتام پر بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر 338 پیش کی گئی۔ یہ قرارداد 22 اکتوبر 1973ء کو پیش کی گئی اور اس میں بھی اسرائیل کو قرارداد نمبر 242 پر عمل کرنے کا کہا گیا کہ اسرائیل سنہ1967ء کی سرحدوں پر واپس جائے اور مقبوضہ علاقوں کو خالی کرے، لیکن نتیجہ ہمیشہ کی طرح وہی رہا، اسرائیل نے اس قرارداد کو ماننے کی بجائے مزید صیہونی بستیاں آباد کر دیں اور دنیا کو بتا دیا کہ اسرائیل کو کسی بھی عالمی قانون اور قرارداد کی کوئی پاسداری نہیں ہے۔
عرب دنیا جو سنہ1978ء تک دو جنگوں میں شکست کے بعد مسلسل امریکہ کے سامنے سر جھکا چکی تھی، جن میں مصر سرفہرست تھا۔ مصر نے 17 ستمبر 1978ء میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کیا، جو مصر اور اسرائیل کے درمیان تھا۔ کیمپ ڈیوڈ میں بھی فلسطینی علاقوں کی خود مختاری کی بات رکھی گئی، لیکن اسرائیل نے عملی طور پر اس معاہدے میں مصر کی کچھ زمین واپس دے کر فلسطین میں اپنی صیہونی آبادکاری سمیت فلسطینی عوام کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کو جاری رکھا۔ اکتوبر 1991ء میں میڈرڈ کانفرنس جو امریکہ اور اس وقت سوویت یونین کی میزبانی میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں پہلی مرتبہ اسرائیلی اور فلسطینی قیادت براہ راست مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے۔ اس کانفرنس میں بھی فلسطین کے لئے دو ریاستی حل کی بات کی گئی تھی، جو بعد ازاں قابل عمل نہ ہوئی۔
اس کے بعد 13 ستمبر 1993ء کو اوسلو معاہدہ سامنے آیا، جس کے نتیجے میں ایک پیشرفت یہ سامنے آئی کہ اسرائیل نے مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو قائم ہونے دیا اور کسی حد تک فلسطینی اتھارٹی کی محدود خود مختاری کو تسلیم کیا گیا اور ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ مستقبل میں ایک مکمل ریاست بنائی جائے گی۔ فلسطینیوں کو صرف وعدے دیئے جاتے رہے، لیکن عملی طور پر ان کے ساتھ اس کے الٹ ہی ہوتا رہا۔ انہی حالات کے تسلسل میں 24 ستمبر 1995ء کو اوسلو معاہدہ دوئم ہوا، جس میں محدود خود مختاری کو کچھ حد تک وسیع کر دیا گیا اور مغربی کنارے کو تین زون یعنی بالتریب A، B، C میں تقسیم کیا گیا۔ 23 اکتوبر 1998ء کو وائی ریور معاہدہ جو کہ امریکہ کی نگرانی میں انجام پایا تھا، اس معاہدے میں بھی صیہونی آبادکاروں کے انخلاء کی بات کی گئی اور وعدہ کیا گیا تھا، لیکن بعد ازاں ہمیشہ کی طرح اسرائیل نے اس پر عمل نہ کیا۔
کیمپ ڈیوڈ دوئم معاہدہ جولائی سنہ2000ء میں انجام پذیر ہوا، جس میں یاسر عرفات اور ایہود باراک کے درمیان یروشلم اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی جیسے مسائل پر ڈیڈلاک آیا اور کسی اتفاق کو نہ پہنچے، جس کے نتیجہ میں دو ریاستی حل کے لئے ہونے والے مسلسل مذاکرات ناکام ہوگئے۔ اقوام متحدہ نے 12 مارچ 2002ء میں باضابطہ پر قرارداد نمبر 1397 کے تحت فلسطین کے دو ریاستی حل کو تسلیم کر لیا اور اس قرارداد میں کہا گیا کہ دونوں فریق آپس میں امن قائم رکھتے ہوئے رہیں۔ نتیجہ میں اسرائیل کی ہمیشہ کی طرح ہٹ دھرمی اور غنڈہ گردی جاری رہی اور فلسطینی عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی زمینوں پر قبضہ اور صیہونی آباد کاری جاری رہی۔
امریکہ، روس اور یورپی یونین نے مشترکہ طور پر ایک اور معاہدہ جسے روڈ میپ فار پیس کہا جاتا ہے، جسے 30 اپریل 2003ء میں پیش کیا گیا تھا، اس میں کہا گیا کہ سنہ2005ء تک فلسطین کی آزاد ریاست قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن یہ بھی سب کچھ ناکامی کا شکار ہوا، کیونکہ اسرائیل ہمیشہ سے ہی فلسطین کے وجود کا دشمن تھا اور آج بھی ہے، لہذا اسرائیل کی خواہش کے مطابق کبھی بھی فلسطینیوں کو ان کے حقوق میسر نہیں ہوئے۔ انناپولس کانفرنس جو کہ 27 نومبر 2007ء کو منعقد ہوئی اور اس کانفرنس میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ کے درمیان ملاقات ہوئی اور مذاکرات انجام پائے، لیکن نتیجہ میں کوئی اتفاق نہ ہوسکا۔ اقوام متحدہ کی ایک اور قرارداد (67/19) جو کہ 29 نومبر 2012ء کو جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی اور اس کے تحت فلسطین کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔
حالیہ دنوں 29 جولائی سنہ2025ء کو فرانس کی جانب سے نیو یارک میں ایک کانفرسن منعقد کی گئی، جس کو سعودی عرب کی شراکت داری بھی حاصل تھی۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد بھی گذشتہ تسلسل یعنی بالفور اعلامیہ سے لے کر اب تک فلسطین کی تقسیم کے بارے میں ہی تھا۔ جیسا کہ اس کے اعلامیہ میں بیان کیا گیا ہے کہ فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے اور فلسطینی مزاحمت کی مذمت بھی کی گئی اور ساتھ ساتھ سنہ1948ء سے قرارداد نمبر 194 کی نفی بھی کر دی گئی کہ جس میں فلسطین کے مہاجرین کے حق واپسی کی بات کی گئی تھی۔ آج بھی اقوام متحدہ میں جو کچھ دو ریاستی حل کے عنوان سے پیش کیا جا رہا ہے، یہ سب فلسطینی عوام کے حقوق پر ڈاکہ، ظلم اور ناانصافی ہے۔ اس عنوان سے علیحدہ ایک مقالہ پہلے ہی تحریر کیا جا چکا ہے، جسے قارئیں پڑھ کر تفصیلات سے آگاہ ہوسکتے ہیں کہ آخر دو ریاستی حل کس طرح فلسطین کے لئے ظلم اور ناانصافی پر مبنی ہے اور کیوں عمل پذیر نہیں ہوسکتا۔ فلسطین کے مسئلہ کا واحد حل صرف اور صرف فلسطینیوں کی واپسی اور ریفرنڈم کے ذریعے ان کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔


































