
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔ دفاعی بجٹ 3,000 ارب روپے مقرر۔ محصولات (ریونیو) کا ہدف 15,267 ارب روپے۔ جی ڈی پی (GDP) کی شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد برقرار۔ تنخواہ اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری۔ مہنگائی (افراطِ زر) کی اوسط شرح 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ۔
بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے جو وہ معزز ایوان کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان عالمی سطح پر ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے اور جس کی دوستی کی خواہش کی جاتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایمان اور بھائی چارے کا رشتہ پہلے سے موجود ہے تاہم اس معاہدے نے تعلقات کو ایک نئی اور مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق یہ پاکستان کے لیے اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک بھاری اور مقدس ذمہ داری بھی ہے جس کی ادائیگی کے لیے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔


































