
تل ابیب : اسرائیلی فوج نے غزہ کی سرحد کے قریب واقع علاقوں کو عام فلسطینی شہریوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ جہاد اسلام کے 2 سینئر ارکان کی گرفتاری کے بعد جوابی کارروائیوں کے خطرے کے پیش نظر علاقے کو بند کیا گیا ہے۔ گرفتاریوں سے متعلق فلسطینی سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ زیر حراست افراد میں سے ایک باسم السعدی بھی ہیں جو مغربی کنارے میں اسلامک جہاد کے شعبہ سیاست کے سینئر رہنما ہیں۔ دوسرے شخص کی شناخت سے متعلق بتایا کہ وہ باسم السعدی کا داماد ہے جو گروپ کے لیے جنین میں فنڈز جمع کرتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے براہ راست خطرات کی وجہ سے غزہ کے قریب کے علاقوں میں شہریوں کو جانے سے روکا ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں داخل ہونے اور اس سے باہر جانے والے لوگوں کے لیے اپنا واحد سرحدی بارڈر بھی بند کر دیا ہے جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم یائر لاپڈ سیکیورٹی کا جائزہ لے رہے ہیں۔


































