
اسکردو: صدر انجمن امامیہ بلتستان و نائب امام جمعہ مرکزی جامع مسجد اسکردو آغا باقر الحسینی نے کہا ہے کہ جنہوں نے نہتے بچوں کو قتل کیا ان کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے، چارٹر آف دیمانڈر پر عمل نہ ہوا تو آگے کا لائحہ عمل طے کرینگے اور پورے جی بی میں نہ تھمنے والا احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گا۔ اسکرود میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا ہمیں افسوس ہے لیکن اس کی آڑ میں بلتستان میں حالت خراب کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ یہ بارڈر ایریا ہے، یہاں بعد میں کچھ ہونے کی صورت میں ہم ذمہ دار نہیں ہونگے۔ ہماری نرمی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، کچھ بچوں سے غلطی سرزد ہوئی ہے تو اس آڑ میں بلتستان میں کچھ بھی ہونے کی صورت میں صورتحال کے ذمہ دار ہم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تخریب کاری میں ایف سی ملوث ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ایف سی کو واپس بلایا جائے، ہمیں نہیں چاہیے۔ پہلے ہمیں پاکستانی تسلیم کریں، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تم نے دیا نہیں ہم نے لیا ہے، اگر ابھی واپس لے سکتے ہیں واپس لے لیں۔ ہم پاکستان کا حصہ ہیں ہی نہیں تو ہم پر تمہارے قانون کیسے لاگو ہو سکتا ہے۔ فوجی عدالت سے ہمیں نہ ڈرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رہبر معظم کی شہادت سے ہم کمزور نہیں ہوں گے بلکہ انشاء اللہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دھوکہ دیا گیا، پہلے وعدہ کر کے بعد میں اس سے زیادہ کرفیو لگایا گیا۔


































