
اسلام آباد : گورنمنٹ حج اسکیم کے تحت حج اخراجات کا تخمینہ 9 لاکھ 49 ہزار 662 روپے لگایا گیا ہے۔وزارت مذہبی امور نے وزیر اعظم کو تجویز دی ہے کہ حج پیکیج پر سبسڈی دی جا ئے تاکہ حج اخرجات میں کچھ کمی کی جاسکے، فضائی کرایہ ایک لاکھ 88 ہزار روپے ‘ مکہ مکرمہ میں رہائش کے اخراجات ایک لا کھ 52 ہزار 375 روپے ‘ ٹرانسپورٹ 23 ہزا روپے ‘ کھانے پینے کےاخراجات 71875 روپے‘ مدینہ منورہ میں ر ہائش 66125 روپے‘ لازمی حج اخراجات 258750 روپے، زمزم 690 روپے‘اضافی سروس چارجز 92000 روپے‘ انٹر سٹی چارجز 3450 روپے‘ مشاعر ٹرانسپورٹ 2875 روپے‘ منیٰ ٹرانسپورٹ 2875چروپے‘منیٰ‘ عرفات اور مزدلفہ کے ٹرین چارجز 33062بروپے‘ انشورنس چارجزب6325بروپے‘ قربانی چارجز 33062 روپے‘ آ مد پر تواضع کے اخراجاتب1150روپے‘مکہ منورہ ‘ مدینہ منورہ اور جدہ کے درمیان سامان کے نقل وحمل کے چارجز 2012 روپے‘ایئر پورٹ پر ایکسپریس سروس 1150روپے ‘ متفرق اخراجات 1150روپے‘ ویکسینیشن چارجز 3635 روپے‘میڈیسن چارجز 855 روپے اورانتظامی اخراجات 5245 روپے کے اخراجات شامل ہیں ۔ یہ حج اخرجات 2019کے حج اخراجات سے تقریباً دو گنا ہیں جس کی وجہ سعودی حکومت کی جانب سے فیسوں کی شرح اور ٹیکسوں میں اضافہ ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت مذہبی امور نے وزیر اعظم کو تجویز دی ہے کہ حج پیکج پر سبسڈی دی جا ئے تاکہ حج اخرجات میں کچھ کمی کی جاسکے۔


































