
تحریر: عبدالباری عطوان
آن لائن اخبار "رائے الیوم” کے ایڈیٹر عبدالباری عطوان نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ رجب طیب اردوگان کا منگل کے دن خلیج فارس تعاون کونسل کے سربراہان کے 44ویں اجلاس سے خطاب (جس کے وہ مہمان خصوصی تھے) کئی اہم پیغامات کا حامل تھا۔ انہوں نے غزہ کی جنگ اور شام کے بحران سمیت کئی حوالوں سے اپنے متعدد فریقوں کو پیغامات دیئے ہیں۔ ہم سمیت بہت سے لوگوں کے لیے اردگان کی یہ تقریر اس سنہری دور اور ان کی سیاسی کامیابیوں کی یاد دہانی تھی، جس نے انہیں عرب اور اسلامی دنیا میں مقبول ترین رہنماء بنا دیا تھا۔ ہم یہاں ترکی کے امریکی جال میں پھنسنے سے پہلے کے مرحلے کے بارے میں بات کر رہے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ترکی کو بڑی چالاکی سے شام کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور ترکی کو اقتصادی، سیاسی اور عسکری طور پر کمزور کرنے کے لئے امریکی جال میں الجھا دیا گیا ہے۔ اردگان کی قیادت اور اس کی کامیابیاں اب قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہیں۔
بہرحال دوحہ میں اردوگان کی تقریر میں کئی اہم نکات تھے اور ہم یہاں اس کی اہمیت پر بات کریں گے: پہلا نکتہ جس میں انہوں نے غزہ پٹی میں قتل عام کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا اور اسے ایک علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خلاف خبردار کیا، جس میں شام بھی شامل ہوگا۔ دوسرا نکتہ: انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیتن یاہو کی حکومت نے پورے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور اس کا مقصد صیہونی حکومت میں اپنی مدت اقتدار کو طول دینا ہے۔ تیسرا نکتہ: اس میں اردوگان نے تقریباً 16,000 فلسطینیوں کے قتل عام کو، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، ایک انسانیت سوز جنگی جرم قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس بارے میں جوابدہ ہونا چاہیئے۔
چوتھا نکتہ: اس تقریر میں انہوں نے جان بوجھ کر اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ کہا ہے کہ شام کے استحکام میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشت گرد اور علیحدگی پسند عناصر ہیں اور وہ اس ملک کی علاقائی سالمیت اور اس کے اتحاد کے لیے خطرہ ہیں، جس میں اردوگان کا واضح مطلب "کرد تنظیمیں” ہیں۔ پانچویں نکتے میں انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی بنیاد پر شام کے تنازع کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کرنا اور شامیوں کی رضاکارانہ اور محفوظ واپسی کے لیے ضروری پلیٹ فارم تیار کرنا (اس سے ترکی میں رہنے والے شامی باشندے بھی مراد ہیں) پر تاکید کی ہے۔
غزہ پٹی میں نسل کشی اور نسلی تطہیر کی جنگ کے حوالے سے ان کا پیغام مناسب ہے، البتہ اس نسل کشی کی مذمت میں تمام عرب اور اسلامی ممالک کی اکثریت کا اتفاق ہے، لیکن جب تک غزہ پٹی میں نسل کشی کے حوالے سے عملی اقدامات نہیں کیے جائیں گے، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ کاش صدر اردوگان شام کی بہتری اور استحکام کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے تمام دہشت گرد اور علیحدگی پسند گروہوں کے بارے میں بات کرتے اور اس میں صرف کردوں کو نشانہ نہ بناتے۔ اسی طرح اگر وہ اس تقریر میں شام سے تمام ترک افواج کے انخلاء کا وعدہ بھی کرتے تو کتنا اچھا ہوتا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ حالانکہ شام میں ترک افواج کی موجودگی دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان عدم استحکام اور بغاوت کا سبب ہے اور کسی نہ کسی طرح عرب اور ترکی کے تعلقات میں زہر گھول رہی ہے۔
ہم مانیں یا نہ مانیں، ترکی ایک بڑا علاقائی ملک ہے اور موجودہ علاقائی اور عالمی پوزیشن تک پہنچنے میں ترک صدر کی قیادت نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن ہماری رائے میں غزہ کے حوالے سے قتل عام کی مذمت کرنا کافی نہیں ہے۔ صیہونی حکومت اور نیتن یاہو کے جنگی جرائم کی وجہ سے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیئے اور اردوگان کو اس حوالے سے شفاف اعلان کرنا چاہیئے تھا۔ صدر اردوگان کی تقریر میں دلچسپ نکتہ یہ تھا کہ انہوں نے غزہ کی جنگ کو ایک علاقائی جنگ بننے کی شدید مخالفت کی، جس میں شام بھی شامل ہے اور ہم نہیں سمجھ سکے کہ اس حوالے سے ان کا کیا مطلب ہے، خاص طور پر شام کے حوالے سے۔ کیا یہ شام میں ان کی دلچسپی کی وجہ سے تھا یا جنگ کے ترکی تک پہنچنے کے خوف کی وجہ سے۔؟
صدر اردوگان کے سامنے واحد اور سب سے اہم آپشن یہ ہے کہ وہ اپنی سابقہ ہوشمند اور منطقی پالیسی پر واپس آجائیں، جو انہوں نے اپنی حکومت اور اپنی پارٹی کے پہلے دس سالوں میں شروع کی تھی، جس کا مقصد مشرق تک پہنچنا اور اپنے عرب بھائیوں کے ساتھ تعاون کے پل قائم کرنا تھا۔ خاص طور پر شام کے خلاف جنگ اور سازشوں کے سائے میں جو ان دنوں امریکہ، نیٹو اور اس کے اتحادیوں نے شام کے خلاف شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے خلیج (فارس) کے امیر ممالک کے ساتھ تجارت کے حجم کی تعریف کی، جو 2022ء میں 23 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، اگرچہ یہ مقدار کافی ہے، لیکن بہت سے شعبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مقدار اب بھی کم ہے۔ آخر میں ہماری خواہش ہے کہ صدر اردوگان پچھتر سال سے جاری صیہونی حکومت کے جرائم کو نیتن یاہو کے قتل عام تک محدود نہ کریں، کیونکہ صیہونی حکومت کی پالیسی پہلے دن سے ہی فلسطینیوں کے قتل عام پر استوار رہی ہے۔ صدر اردوگان کو اس صیہونی حکومت سے تمام تعلقات منقطع کرکے اس میدان میں عربوں اور مسلمان حکمرانوں کے لیے ایک اہم اور اچھی مثال اور نمونہ عمل بننا چاہیئے۔


































