
امریکا کا سلامتی کونسل کے رکن ممالک اور ایٹمی معاہدے میں شامل فریقوں پر دباو¿ ،سلامتی کونسل میں ممکنہ قراردادکی حمایت کیلئے دھونس دھمکی اور لالچ کا استعمال
دوسرے ممالک کو دھمکیاں دے کرامریکا نے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑادیں، دنیا کو طاقت کی سیاست کے بجائے قانون کی حکمرانی کے لئے کام کرنا ہوگا،ایران
تہران (نیوز ڈیسک) امریکا نے ایران کیخلاف اسلحہ جاتی پابندیوں میں توسیع کیلئے سلامتی کونسل کے رکن ممالک اور ایٹمی معاہدے میں شامل فریقوں پر دباو¿ بڑھادیا ہے، امریکا اسلحہ جاتی پابندیوں میں توسیع کیلئے اسی ماہ کے دوران سلامتی کونسل میں قرار داد پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ،جس کی حمایت کیلئے دھونس دھمکی اور لالچ سمیت تمام طریقے استعمال کئے جارہے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے کہا ہے کہ امریکا جوہری معاہدے سے نکل چکاہے لیکن سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف اسلحہ جاتی پابندیوں میں توسیع کی قرار داد لانے کی کوشش کررہا ہے، وہ معاہدے سے الگ نہ ہونے والے ممالک پر دباو¿ ڈال رہا ہے ، ایٹمی معاہدہ وہ پہلا اور آخری کثیر الفریقی معاہدہ نہیں جس سے ٹرمپ نے علیحدگی اختیار کی ہے، امریکا کو دنیا بھر میں اپنی ذلت آمیز خودسرانہ پالیسیوں کو ختم کرنا ہوگا، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ امریکا نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کرکے اور دوسرے ممالک کو دھمکیاں دے کر عالمی قوانین کی دھجیاں اڑادیں، امریکا کی جانب سے بین الاقوامی تنظیموں سے نکلنے، عالمی معاہدوں سے غیر قانونی انخلا، جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی پر کہا کہ ایسی پالیسیاں کثیرالجہتی تعاون کو چیلنج کرکے ملکوں کے اجتماعی مفادات کو خطرے میں ڈالتی ہیں، انہوں نے زور دے کر کہا کہ دنیا کو طاقت اور تعاون کی سیاست کو تبدیل کرنے اور محاذ آرائی کی جگہ لینے کے لئے قانون کی حکمرانی کے لئے کام کرنا ہوگا،ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جوہری معاہدے سے امریکی انخلا، ایرانی عوام کے خلاف یکطرفہ پابندیوں اور اقوام متحدہ کے منشور کی بڑے پیمانے پر مسلسل خلاف ورزیوں کے بارے میں جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ایک اور خط تحریر کردیا، اس خط میں جوہری معاہدے سے امریکی انخلا، یکطرفہ پابندیوں اور اقوام متحدہ کے منشور کی بڑے پیمانے پر مسلسل خلاف ورزیوں خاص طور سے شق نمبر 25 کی خلاف ورزی سے متعلق اہم نکات کی جانب اشارہ کیا ہے۔


































