
امام حسنؑ اور امام حسینؑ سے-
ابن ملجم کی تلوار سے زخمی ہونے کے بعد
میں تم دونوں کویہ وصیت کرتا ہوں کہ تقویٰ الٰہی اختیار کئے رہنااورخبردار دنیا لاکھ تمہیں چاہے اس سے دل نہ لگانا اور نہ اس کی کسی شے سے محروم ہو جانے پرافسوس کرنا۔ہمیشہ حرف حق کہنا اور ہمیشہ آخرت کے لئے عمل کرنا اور دیکھو ظالم کے دشمن رہنااور مظلوم کیساتھ رہنا۔
میں تم دونوں کو اوراپنے تمام اہل و عیال کو اور جہاں تک میرا یہ پیغام پہنچے ۔سب کو وصیت کرتا ہوںکہ تقوائے الٰہی اختیار کریں۔اپنے امور کو منظم رکھیں ۔ اپنے درمیان تعلقات کو سدھارے رکھیں کہ میں نے اپنے جد بزرگوار سے سنا ہے کہ آپس کے معاملات کو سلجھا کر رکھنا عام نماز اور روزہ سے بھی بہتر ہے۔
مکتوب نہج البلاغه 47


































