
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ دشمن ایرانی قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے ملکی طلبا برادری پر زور دیا کہ وہ اپنے مطالبات میں حقیقت پسندی کے اصولوں پر کاربند رہیں۔ ایک ہزار سے زائد اسٹوڈنٹس اور طلبا یونین کے اراکین سے ایک طویل ملاقات کے دوران خطاب میں ولی امر مسلمین نے کہاکہ ایرانی قوم کے سلسلے میں دشمن کی موجودہ حکمت عملی اسے خود اپنے بارے میں بدگمانی میں مبتلا کرنا ہے۔ انہوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہ ناامیدی کا سرچشمہ زیادہ تر داخلی ہے۔ بدگمان کرنے کی حکمت عملی کے مصادیق بیان کرتے ہوئے کہا کہ پرجوش طلبا کو استاد یا مایوس اور بدگمان شخص، بدگمانی میں مبتلا کرتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ اتنی ساری مشکلات کے ہوتے ہوئے کس خوش فہمی میں یہاں رکے ہوئے ہو اور پڑھائی کر رہے ہو؟ ملک کو چھوڑو اور باہر چلے جاؤ۔ ولی امرمسلمین نےکہا کہ سبھی کو دشمن کی سازش اور اسٹریٹیجی کی شناخت میں اپ ٹو ڈیٹ رہنا چاہیے۔ دشمن پیسے اور وسائل کے ذریعے لگاتار حق کے محاذ کے خلاف کام کر رہا ہے۔ بدخواہ غیر ملکی میڈیا اس سوچ کو تھوپنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایرانی قوم اپنے مذہبی عقائد اور انقلابی جذبات سے روگرداں ہو گئی۔ آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسٹوڈنٹس اور اسٹوڈنٹ سوسائٹی کی فکری بنیادوں کے استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جوان اسٹوڈنٹس کو قرآن مجید، نہج البلاغہ اور شہید مطہری، شہید بہشتی اور مرحوم مصباح یزدی جیسے مفکرین کی کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے فکری اور معرفتی مسائل پر کام، مطالعہ اور غور و فکر کرنا چاہیے۔
ولی امر مسلمین نے کہا کہ دشمن، ایرانی جوان سے شدید کینہ رکھتا ہے اور اس حقیقت کو ہمارے سارے نوجوانوں کو جاننا چاہیے۔ ایرانی نوجوان سے سامراج اور امریکا اور یورپ پر حاوی صیہونی کارٹلز کے کینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی حکام اور عہدیداران سے دشمنی رکھتے ہیں لیکن ایرانی نوجوان سے زیادہ دشمنی رکھتے ہیں کیونکہ جوانوں کی شراکت، کام اور جوش کے بغیر عہدیدار کچھ نہیں کر سکتے اور انقلاب کی شروعات سے لے کر آج تک یہی جوان تھے جنھوں نے محاذوں اور مختلف میدانوں میں بڑے بڑے کام انجام دیے ہیں۔


































