
اسلام آباد : سپریم کورٹ نے انتخابات کیس میں ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کو کل طلب کرلیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے انتخابات ایک ساتھ کروانے سے متلعق درخواستوں پر سماعت کی ۔ وزرات دفاع کی درخواست پر اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ بہت لمبا ہوتا جارہا ہے، حکومت نے اپنا ایگزیکٹیو کام پارلیمان کو دیا ہے یا نہیں؟۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ قومی اسمبلی کی قرار داد کی روشنی میں فنڈز کا معاملہ پہلے قائمہ کمیٹی منظوری کیلئے بھیجا، جس نے قومی اسمبلی بھیجا جہاں سے مسترد کردیا گیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ایک موقف پر آجائیں تو عدالت گنجائش نکال سکتی ہے، اگر سیاسی جماعتیں انتخابات کی تاریخ بدلنا چاہتی ہیں تو عدالت ان کے ساتھ ہے، تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت سے فنڈز کی فراہمی سے متعلق دوبارہ جواب طلب کرلیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر انتخابات کے لیے فنڈز فراہم نہ کیےگئے تو سنگین نتائج آسکتے ہیں، چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی، 3 رکنی بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔ وزارت دفاع اور دو شہریوں کی جانب سے ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔ دوران سماعت جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے وزیراعظم پرعدم اعتماد کے بھی نتائج ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نےکہا کہ اگر انتخابات کے لیے فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو شدید سنگین نتائج آسکتے ہیں، مولا ہمیں ہمت دے کے صیح فیصلے کریں اور ہمیں نیک لوگوں میں شامل کرے اور جب ہم چلے جائیں تو ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے۔ چیف جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ معاملہ بہت لمبا ہوتا جارہا ہے، حکومت نے اپنا ایگزیکٹو کام پارلیمان کو دیا ہے یا نہیں؟ جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا کبھی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری لینے میں حکومت کوشکست ہوئی؟ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سال 2013 میں کٹوتی کی تحریکیں منظور ہوچکی ہیں، موجودہ کیس میں گرانٹ جاری کرنے سے پہلے منظوری لینے کے لیے وقت تھا۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کی ٹیم نے بار بار بتایا کہ سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری بعد میں لی جاتی ہے، وزارت خزانہ نے آئین کے آرٹیکل 84 کا حوالہ دیا تھا،کیا آپ کا کیس یہ ہے کہ حکومت ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سنجیدہ ہے، لیکن پارلیمنٹ نے منع کر دیا؟ وزیراعظم کوانتخابات کے لیے فنڈز کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کی اکثریت کو اعتماد میں لینا تھا، وزیراعظم ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔چیف جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں کہ حکومت آئینی عمل کے لیے فنڈز کی فراہمی پر مثبت جواب دے گی۔


































