Sun Oct 04, 2026

نماز اللہ سے قریبی تعلق قائم کرنے، محبت، امید، مہربانی اور امن کا جاری چشمہ ہے، ولی امر مسلمین آر اے ایف فئیر فورڈ واقعے میں ایران کے مبینہ کردار سے متعلق برطانوی دعوی مسترد عراق سے امریکی فوج کے انخلا پر جشن اتنے میزائل ہیں کہ دشمن پر کئی سال تک حملے جاری رکھ سکتے ہیں، علی بلالی امریکا نے غیر مسلح ہونے کی تصدیق کے باوجود ایرانی بحریہ کے جہاز پر حملہ کیا، ایران عراق کی اسلامی مزاحمت کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، امریکی انخلا کو مزاحمت کی کامیابی قرار دے دیا پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، 22 شدت پسند ہلاک محسن رضائی کی عرب امارات کو وارننگ، نیتن یاہو کی خفیہ میزبانی پر سخت ردعمل عراق سے 23 سال بعد امریکی افواج کا مکمل انخلا آبنائے ہرمز میں 3 جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا افغانستان کسی بھی ملک میں بد امنی یا عدم استحکام نہیں چاہتا، ترجمان جنگ میں ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل اب ایران میں اندورنی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیاں پاسدارانِ انقلاب کا امریکی عوام کے نام کھلا خط، ٹرمپ پالیسیوں کی مخالفت کا مطالبہ امریکا نے ایران اور روسی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں ایران امریکا جنگ: یورپی یونین بھی شدید متاثر، فیول امپورٹ بل 100 ارب یورو سے بڑھ گیا

روزانہ کی خبریں

امریکی بحریہ کے مشن کے دوران آٹھ اہلکاروں کی خودکشی کی کوشش کی تصدیق

واشنگٹن: امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہَنگ کاؤ نے انکشاف کیا ہے کہ طویل تعیناتی کے دوران طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن سے وابستہ آٹھ اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی۔
یہ انکشاف نیویارک سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ کو لکھے گئے ایک خط میں کیا گیا، جس میں انہوں نے جہاز پر تعینات اہلکاروں کی فلاح و بہبود سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔
اہلکاروں کے اہل خانہ نے پہلے ہی طویل مشن، خراب حالات اور ذہنی دباؤ کے باعث عملے کی ذہنی صحت بگڑنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا، ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز گذشتہ نومبر سے تعینات تھا اور ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود رہا۔ اب یہ جہاز واپس امریکا لوٹ رہا ہے۔
ہنگ کاؤ نے اپنے خط میں کہا کہ جہاز پر عملے کی روحانی اور نفسیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے پانچ فوجی مذہبی پیشوا (چیپلنز) اور متعدد ذہنی صحت کے ماہرین موجود تھے، خودکشی کی کوشش کرنے والے آٹھ افراد میں صرف ابراہم لنکن کا عملہ ہی نہیں بلکہ فضائی ونگ، سٹرائیک گروپ، تباہ کن جنگی جہازوں (ڈسٹرائرز) اور دیگر معاون یونٹوں کے اہلکار بھی شامل تھے۔
اگرچہ امریکی بحریہ نے ماضی میں رسد سے متعلق بعض مسائل تسلیم کیے تھے، تاہم اس نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جہاز پر ذہنی صحت کا کوئی بڑا بحران پیدا ہو گیا تھا، جہاز پر تقریباً پانچ ہزار اہلکار تعینات تھے۔ کاؤ نے یہ بھی کہا کہ ٹوٹے ہوئے پلمبنگ نظام اور تازہ خوراک کی شدید قلت سے متعلق اطلاعات بڑھا چڑھا کر پیش کی گئیں، البتہ انہوں نے بعض مقامات پر پائپ لائن خرابیوں، سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے پلانٹس میں مسائل اور کچھ عرصے کے لیے خوراک کے محدود انتخاب کا اعتراف کیا۔
دوسری جانب سینیٹر گلیبرانڈ نے ٹرمپ انتظامیہ کے سابقہ ردعمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فوجی اہلکاروں کے ساتھ ایسا سلوک ’قطعی ناقابل قبول ہے، جن مسائل کو ’جعلی خبر‘ قرار دیا جا رہا تھا، وہ درحقیقت خدمت انجام دینے والے اہلکاروں کے لیے سنگین اور مسلسل بگڑتے ہوئے حالات تھے۔
ابراہم لنکن نومبر میں کیلیفورنیا سے روانہ ہوا تھا۔ اس کی تعیناتی مئی میں ختم ہونا تھی، لیکن مشن میں بار بار توسیع کی گئی، اگست میں یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو نو ماہ کی طویل تعیناتی مکمل کرنے والے ابراہم لنکن کی جگہ مشرقِ وسطیٰ بھیجا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکی بحریہ اور میرین کور میں خودکشی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ جنوری 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 956 بحری اہلکاروں کا جائزہ لیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ بحری جہازوں پر تعینات اہلکار امریکی فوج کی دیگر شاخوں کے مقابلے میں شدید نفسیاتی دباؤ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ناقص رہائشی حالات، مسلسل شور، سخت ڈیوٹی شیڈول اور مناسب آرام و نیند کی کمی ایسے عوامل ہیں جو ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular