
Mohamed Bashir, who heads HTS’s so-called "Salvation Government”, holds a press conference in the rebel-held northwestern Syrian city of Idlib on November 28, 2024. A Syria war monitor said on November 28 that clashes between the army and an alliance of the jihadist group Hayat Tahrir al-Sham (HTS) with other opposition factions killed more than 130 combatants in the worst fighting in the country’s northwest in years, as the government also reported fierce battles. Some of the clashes, which are happening in an area straddling Idlib and Aleppo provinces, are less than 10 kilometres (six miles) southwest of the outskirts of Aleppo city, which is under government control. (Photo by Omar HAJ KADOUR / AFP)
شام میں نئی حکومت کے قیام کیلئے کوشیں شروع ہوگئیں۔ شام کے وزیر اعظم محمد غازی الجلالی کا کہنا ہے کہ کابینہ کے زیادہ تر وزراء اب بھی دمشق میں کام کر رہے ہیں تاکہ صدر بشار الاسد کے خاتمے کے بعد فوری اور ہموار منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔ عرب میڈیا نے محمد البشیر کو عبوری حکومت کا سربراہ بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ البشیر کا تعلق ادلب صوبے سے ہے۔ ترک وزیرخارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہےکہ نئی حکومت میں تمام دھڑوں کو شامل ہونا چاہئے۔ شامی عوام ازخود ملک کی تعمیرِ نو کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور بین الاقوامی اور علاقائی طاقتوں کو دانائی سے کام لینا اور ملک کی علاقائی سالمیت کو بچانا ہو گا۔
روس کے ترجمان کریملن نے کہا کہ وہ شام کی صورتحال پر انقرہ اور دیگر علاقائی کھلاڑیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ شام میں اڈوں کے مستقبل پر بات کرنا قبل از وقت ہے۔


































