
والدین کے باہمی لڑائی جھگڑوں کے بچوں پر اثرات
والدین کے باہمی لڑائی جھگڑوں سے بچوں پر کون سے منفی اثرات مرتّب ہوتے ہیں؟
والدین کے آپس کے لڑائی جھگڑے، اختلافات اور مسلسل کشمکش بچوں کی زندگی میں سکون و اطمینان مہیّا کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ اس سے بچوں پر شدید نوعیت کے درج ذیل منفی اور نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
نفسیاتی مسائل
گھر میں موجود لڑائی جھگڑے اور تناؤ بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر منفی اثرات مرتّب کر کے انہیں نفسیاتی امراض میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ جس سے ان کی قوتِ اظہار میں کمی واقع ہوتی ہے اور انہیں ان کی ذہانت کے مطابق ماحول اور مواقع نہ ملنے پر ان کی صلاحیتوں کی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔
خود اعتمادی سے محرومی
بچوں کو پرسکون رہنے کے لیے بنیادی طور پر والدین کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب وہ خود انہیں غیر آسودہ اور تناؤ کا شکار دیکھتے ہیں تو وہ ذاتی اعتماد سے محروم ہو کر اطمینان و سکون کی نئی راہیں تلاش کرنے لگتے ہیں۔ نتیجتا بچے والدین سے دوری اختیار کر لیتے ہیں۔
حسنِ اخلاق سے عاری
مسلسل کشیدہ گھریلو ماحول میں بچے حسنِ اخلاق سے عاری ہو جاتے ہیں اور ان کے لیے ایک باوقار شخصیت کا مالک بننا ممکن نہیں رہتا۔
احساس کمتری
والدین کے مابین مسلسل تصادم کی فضا میں پلنے والے بچے مایوسی اور إحساس کمتری کا شکار رہتے ہیں۔


































