
ایک استاد اپنے شاگرد کے ساتھ ایک باغ سے گزرہے تھے۔ انہوں نے باغ میں ایک پرانے جوتے رکھے ہوئے دیکھے۔ شاگرد نے کہا میرے خیال سے یہ جوتے اس باغ میں کام کرنے والے کے ہیں۔ آئیں اس کے جوتے چھپاکے دیکھتے ہیں کیسا ردعمل دکھاتا ہے۔۔پھر جوتے واپس کردیں گے۔ آئیں تھورا اس بہانے ہنس لیں گے اور تفریح ہوجائے گی۔
استاد نے کہا اپنے ہنسنے کے لئے دوسرے کو کیوں اداس اور پریشان کررہے ہو۔ آو وہ کام انجام دو جو کہہ رہا ہوں اور پھر اس کا ردعمل دیکھو …تھوڑے پیسے ان جوتوں میں رکھو۔۔۔
شاگرد نے بھی ایسا ہی کیا اور دونوں چھپ گئے۔ اس باغ میں کام کرنے والا مالی جب اپنے سامان کے پاس آیا اور جونہی جوتے پہنے اس میں کوئی چیز احساس کی۔ جوتے میں ہاتھ ڈالا، اور جب پیسوں کو دیکھا، روتے ہوئے فریاد لگائی ۔۔۔ *خدایا تیرا شکر* ۔۔۔۔ خدایا تو کبھی اپنے بندوں کو نہیں بھولتا۔ کبھی ہم سے غافل نہیں۔
تو جانتا ہے کہ بیوی بیمار ہے اور بچے بھوکے۔۔اور ابھی ہی سوچ رہا تھا کیسے یہ سب خرچے پورے ہوں گے۔۔۔کہتا جاتا اور خوشی کے انسو بہاتا جاتا۔
استاد اور شاگرد بھی بے اختیار اس کی خوشی دیکھ کر مسکرانے لگے۔
پھر استاد نے شاگرد سے کہا :
ہمیشہ کوشش کرو دوسروں کو خوش کرنے سے خوش ہو، نہ دوسروں کو پریشان کرکے۔


































