
گھر اور کنبے کے اندر عورتوں کی ایک بڑی ذمہ داری بچوں کی تربیت کرنا ہے۔ جو عورتیں گھر کے باہر کی اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے ماں بننے سے گریز کرتی ہیں وہ در حقیقت انسانی فطرت اور اپنے نسوانی مزاج کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ اللہ اسے پسند نہیں کرتا۔ جو خواتین اپنے بچوں، ان کی تربیت، انہیں دودھ پلانے اور انہیں اپنی مہر آگیں آغوش میں لینے اور پرورش کرکے انہیں پروان چڑھانے جیسے کاموں کو بعض ایسے امور کی وجہ سے ترک کر دیتی ہیں جن کی انجام دہی کا انحصار ان کی ذات پر نہیں ہے، وہ بہت بڑی غلطی کر رہی ہیں۔ بچوں کی پرورش کی بہترین روش یہ ہے کہ ان کی پرورش ماں کی آغوش میں اس کی مہر و الفت اور مامتا کی چھاؤں میں ہو۔ جو خواتین اپنے بچوں کو اس خداداد نعمت سے محروم کر دیتی ہیں، ان سے بہت بڑی غلطی سرزد ہو رہی ہے۔ ان کا یہ عمل ان کے بچوں کے لئے بھی نقصان دہ ہے، خود ان کے اپنے لئے بھی ضرر رساں ہے اور معاشرے کے لئے زیاں بار ثابت ہوتا ہے۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ عورت کا ایک اہم ترین فریضہ یہ ہے کہ بچوں کو اپنے جذبات کی گرمی سے، اپنی صحیح تربیت سے اور اپنی پوری توجہ اور دلجمعی کے ذریعے ایسا بنائيں کہ یہ بچہ جب بڑا ہو تو ذہنی اور نفسیاتی لحاظ سے ایک صحتمند انسان ہو، احساس کمتری سے دوچار نہ ہو، نفسیاتی پیچیدگیوں میں گرفتار نہ ہو، اس ذلت و بد بختی اور بے شمار مصیبتوں سے محفوظ رہے جن سے مغرب میں یورپ اور امریکا کی نوجوان نسلیں دوچار ہیں۔
مغربی ممالک میں خواتین چونکہ گھر اور پچوں کی تربیت پر توجہ نہیں دیتیں اس لئے ان مغربی معاشروں کا یہ عالم ہو گیا ہے کہ یورپی اور امریکی ممالک میں دسیوں لاکھ بد عنوان اور گمراہ نوخیز لڑکیاں اور لڑکے، اس مادہ پرست ثقافت، ان فلک بوس محلوں، ان ایٹمی چھاونیوں، سو منزلہ سے بھی زیادہ اونچی، آسمانوں سے سرگوشیاں کرتی عمارتوں میں دس سال بارہ سال کے سن سے بد عنوانیوں میں مبتلا ہو چکے ہوتے ہیں، چور بن چکے ہوتے ہیں، قاتل بن چکے ہوتے ہیں، اسمگلر بن چکے ہیں، نشہ کی لت میں پڑے ہوئے ہیں، سگریٹ پیتے ہیں، حشیش استعمال کرتے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ مغربی عورت نے خاندان اور کنبے کی اہمیت و ارزش کو نہیں پہچانا، اس کی قدر نہیں کی۔


































