
والدین اور اساتذہ کو اس بات کی طرف دھیان دینا چاہیے کہ انعامات صرف اور صرف پیسوں کی صورت میں نہ ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بچہ سوداگر بن جائے اور ہر اچھے کام کے بدلے انعام کا طلبگار ہو کیونکہ یہ عمل بچے کے کام کرنے کے جذبے کو نقصان پہنچاتا ہے۔
اس طرح وہ کسی بھی چیز کے بدلے، کسی کے بھی کہنے پر کچھ بھی کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے لہٰذا جب بچہ یہ کہتا ہے کہ مجھے فلاں چیز دو گے تو فلاں کام اچھے انداز سے کروں گا تب والدین کو اس روش سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ بچے کی شیطانی حربے کی نشاندہی کرتا ہے۔
لہٰذا ایسے مواقع پر والدین خاموشی اختیار کریں اور بچے کے اس رویے کو ناامیدی میں بدلیں البتہ اس حد تک نہیں کہ بچہ والدین سے امیدیں ہی ختم کر لے اور یہ چیز باعث بنے کہ وہ چوری کرنے پر مجبور ہو جائے۔


































