
میرا بچہ میری کوئی بات نہیں سنتا اور میری کوئی بات نہیں مانتا۔ میرا سوال ہے کہ میں کیسے اپنے بچے کے لیے رول ماڈل بنوں؟*
جواب: والدین کی ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ ان کا بچہ دوسرے افراد مثلا دوست وغیرہ کو اپنے لیے نمونہ عمل قرار دیتے ہوئے اپنے والدین کی نافرمانی کرتا اور بد تمیزی سے پیش آتا ہے۔
راہ حل
نوجوانی کے دور کی خصوصیات
نوجوانی کے دور کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
1️⃣ آزادی (استقلال طلبی)
2️⃣ خود محوری
چند نکات
1️⃣ اولاد کے معاملے میں ہمیشہ تنقید نہ کرتے رہیں۔
اس عمر میں بچے کے دوست والدین کے رقیب بن کر سامنے آتے ہیں کیونکہ دوست کبھی بھی ایک دوسرے میں کیڑے نہیں نکالتے یعنی زیادہ تنقید نہیں کرتے اس لیے ان کو دوست عزیز ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں بچے ان کی طرف زیادہ رغبت رکھتے ہیں۔
2️⃣ آپ بچے کو ایسا ماحول فراہم کریں کہ آپ کی موجودگی اس کے لیے آرام و سکون کا باعث بنے یعنی آپ سے نہ ڈرے اور اطمینان کے ساتھ دل کی بات کر سکے۔
3️⃣ جب آپ کا بچہ آپ کے پاس آئے تو اسے توجہ دیں اور اس کی گفتگو کو غور سے سنیں۔
4️⃣ بچے کے ساتھ دلی تعلق قائم کریں اور ایسے مذاق سے گریز کریں جس میں وہ اپنی تحقیر محسوس کرے۔
5️⃣ اس کے لیے اچھے ہم عمر دوست تلاش کریں۔
دوست کی مثال عطر کی دکان جیسی ہے، جب آپ اس میں داخل ہوں اور کوئی چیز نہ بھی خریدیں تو بھی اس کی خوشبو آپ تک پہنچتی ہے۔ لہذا دوست کا آپ کی اولاد کے رفتار و کردار میں بہت اہم کردار ہے۔ اس اہم کام کے لیے آپ مذہبی قابل اعتماد محافل جیسے مساجد میں ہونے والے پروگراموں سے مدد لے سکتے ہیں۔
6️⃣ ان کی پسندیدہ چیزوں کے مقابلے میں دوسرے کاموں کو نہ لائیں مثلا ٹی وی پر اس کے پسندیدہ پروگرام کے وقت اسے یہ نہ کہیں کہ جاؤ باہر سے روٹی خرید لاؤ۔


































