
نیویارک : اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون ساعر نے حماس کو غیر مسلح کرنا ناگزیر قرار دے دیا۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے کہاہےکہ ساعر کا بیان نسلی تعصب پر مبنی ہے۔
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت نام نہاد بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں ساعر نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل دو برس سے سات محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے اور اسے حماس، اسلامی جہاد اور حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرنا پڑی۔ ساعر کا کہنا تھا کہ غزہ سے متعلق سابقہ منصوبے ناکام رہے کیونکہ انہوں نے دہشت گردی، نفرت اور اشتعال انگیزی جیسے بنیادی امور کو حل نہیں کیا۔ ساعر نے زور دیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ناگزیر ہے اور اسرائیل اس منصوبے کی کامیابی کے لیے کام کرے گا۔
فلسطینی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ کے بیانات سیاسی، اخلاقی اور قانونی دیوالیہ پن کے عکاس ہیں۔ وزارت نے کہا ہے کہ ساعر کا خطاب پرانے الزامات اور جھوٹ پر مبنی ہے جو عالمی برادری کو قائل نہیں کر سکتے۔ اسرائیلی حکومت پر نسل کشی اور نسلی تطہیر کے الزامات عائد کیے گئے اور اسے خطے میں مستقل کشیدگی اور جارحیت کا سبب قرار دیا گیا۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔


































