
برسلز: انسانی حقوق کی تنظیم یورو-میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے غزہ میں ڈیجیٹل والیٹ متعارف کرانے کے منصوبے مالی وسائل اور امداد کو ہتھیار بنا سکتے ہیں۔ جنیوا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ منصوبہ غزہ میں مالی اور انسانی امداد تک رسائی کو دباؤ کے آلے میں تبدیل کر سکتا ہے۔ جس سے تل ابیب کے حکمران اور ان کے اتحادی روزمرہ زندگی اور بنیادی خدمات پر بے مثال کنٹرول حاصل کر لیں گے۔ اسرائیلی بزنس مین اور سابق انٹیلی جنس اہلکار لیران ٹانک مین کے مطابق یہ منصوبہ ایک محفوظ ڈیجیٹل ڈھانچہ قائم کرے گا جو ادائیگی، تعلیم اور مالی خدمات کے لیے معاون ہوگا، اور ایمازون جیسے لاجسٹکس نظام کی سہولت فراہم کرے گا۔ یورو-میڈ مانیٹر نے انتباہ کیا کہ یہ نظام مالی ٹیکنالوجی کو دباؤ کا آلہ بنا سکتا ہے، جس سے فنڈز کی نگرانی، اختیاری پابندیاں اور منتخب افراد کے لیے رقوم منجمد کرنا ممکن ہوگا تاکہ صحافیوں، سرگرم کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں پر اثر انداز ہوا جاسکے۔ تنظیم نے کہا کہ مالی وسائل تک رسائی کو سیکیورٹی اتھارٹی کے تابع کرنا اقتصادی و سماجی حقوق، خوراک کے حق اور انسانی وقار کو نقصان پہنچاتا ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔


































