
ہم بڑوں کے بارے میں نصیحت کی گئی ہے کہ پیٹ بھرنے سے پہلے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔ کیا بچوں کے بارے میں بھی یہ بات اسی طرح سے ہے؟ اگر بچوں کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے تو ہم کیسے سمجھیں کہ بچے کا پیٹ بھر گیا ہے یا نہیں؟
اسلام کی حکیمانہ بات یہ ہے کہ ہمیں پیٹ بھرنے سے پہلے کھانے سے ہاتھ روک لینے چاہیے کیونکہ اس وقت انسان اپنی ضرورت کے مطابق کھانا کھا چکا ہوتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق معمولا جب انسان کا پیٹ بھر جاتا ہے تو دماغ کو یہ حکم صادر کرنے میں 20 منٹ لگ جاتے ہیں۔
بعض اوقات ہم ضرورت سے زیادہ کھانا کھا لیتے ہیں اسی لیے اسلام نے اس طرح کا حکم دیا ہے یعنی اپنی ضرورت کے مطابق اتنی ہی مقدار میں کھانا کھائیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم بچے کے کھانے کے حوالے سے بھی محتاط رہیں۔ اس سلسلے میں بچوں کے اسپیشلسٹ کی طرف رجوع کریں یا وہ کتابیں جو اس بارے میں لکھی گئی ہیں ان کا مطالعہ کریں تاکہ ہم بچوں کی مناسب کھانے کی مقدار جان سکیں۔
مثال کے طور پر بعض اوقات Calorize کی بنا پر بیان کیا جاتا ہے کہ مثلاً 2 بسکٹ میں 80 Calorize ہوتی ہیں۔ یہ 2 بسکٹ 3 سے 4 سالہ بچے کے لیے تقریباً دن کے ایک کھانے کے طور پر شمار کیا جا سکتا ہے۔
یہاں یہ صرف مثال کے طور پر بیان کیا ہے نہ یہ کہ کھانے کی یہ قسم مناسب ہے بلکہ صرف اور صرف مقدار کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔
بچوں کے کھانے کی مقدار کے تعین کے لیے ماہرین کی طرف رجوع کیا جائے۔


































