
لاہور: مجلس وحدت مسلمین نے حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں مظاہرے کئے۔ لاہور میں اسلام پورہ میں مسجد صاحب الزمان ع کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کی قیادت علامہ احمد اقبال رضوی اور دیگر رہنماؤں نے کی۔ مظاہرے کے دوران شہریوں نے ایم ڈبلیو ایم، فلسطین اور پاکستان کے پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور فلسطین کے مظلوم بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔علامہ احمد اقبال رضوی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ایران کے اندر حملہ کرکے دو بڑے جرم کیے ہیں: ایک یہ کہ اس نے ایران کی خودمختاری پر حملہ کیا، اور دوسرا یہ کہ اسماعیل ہانیہ کو شہید کیا، جو وہاں مہمان کے طور پر موجود تھے۔ اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ اثنا عشری جی سکس ٹو کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں کثیر تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی اور اسرائیل مخالف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی جنرل سیکرٹری سید ناصر عباس شیرازی نے تہران میں اسرائیلی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسماعیل ہنیہ نے اپنے مقدس لہو سے فلسطینی تحریک کو جلا بخشی ہے، اسرائیل بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر جارحیت پر اتر آیا ہے اور عالمی قوانین کو روند رہا ہے۔ اسرائیل نے دنیا اسلام کے مظلوم لیڈر اسماعیل ہنیہ کو جس طرح شہید کیا ہے، اس نے اپنا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ اس بزدلانہ کارروائی سے اسرائیل اپنی غزہ میں شکست و ناکامی پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔ کراچی میں بعد نماز جمعہ خوجہ شیعہ اثناء عشری جامع مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس سے علمائے کرام نے خطاب کیا۔


































