
اسلام آباد : اسلامی شرعی عدالت نے ملک میں رائج سودی نظام کو خلاف شریعت قراردے دیا۔ حکومت کو پانچ سال میں تمام قوانین کو اسلامی اور سود سے پاک اصولوں میں ڈھالنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی طرح کی ٹرانزیکشن جس میں ربا شامل ہو وہ غلط ہے۔قرض سمیت کسی بھی صورت میں لیا گیا سود ربا میں آتا ہے۔ اسلام میں ربا کی مکمل ممانعت ہے۔ حکومت 31 دسمبر2027 تک تمام قوانین سود سے پاک اصولوں میں ڈھالے۔ یکم جون سے تمام وہ شقیں جن میں سود کا لفظ موجود ہے وہ کالعدم تصور ہوں گی۔ فیصلے کے مطابق حکومت اندرونی وبیرونی قرضوں اور ٹرانزیکشنز کو سود سے پاک بنائے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت بین الاقوامی اداروں سے ٹرانزیکشن سود سے پاک بنائی جائے۔ پاکستان جیسی اسلامی ریاست کا معاشی نظام سود سے پاک ہونا چاہیے۔


































