
بچوں کی تربیت میں زیادہ روی کے خطرناک نتائج
تمام انسانی صلاحیتیں کسی مصلحت کے تحت ہیں
تربیت میں تمام فطری صلاحیتیں جو انسان کے وجود میں پائی جاتی ہیں، ان میں ہر ایک کی حکمت و مصلحت ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہمارے وجود کےاندر شہوت پائی جاتی ہے تو یہ بیکار نہیں ہے ہمارے لیےضروری ہے کہ ان شہوات کے غریزہ کو ذاتی ضرورت کے مطابق پورا کریں ان کا بھی ہمارے کاندھوں پر حق ہے۔ بہت سے ایسے بےذوق افراد مل جائیں گے جو خود کو یا اپنے بچوں کو جن کی وہ تربیت کر رہے ہوتےہیں اُن پر بےجا دباؤ ڈالتے ہیں۔
بچوں کا کھیلنا حکمت الہٰی
بچے کے اندر کھیلنےکودنے کی خواہش پروردگار کی طرف سے ایک حکمت ہے۔ وہ قدرت جو بچے کے اندر جمع ہے اس قدرت کو صرف اور صرف کھیلنےکودنے کے زریعے ہی سے نکھارا جاسکتا ہے۔ آپ دیکھتے ہوں گے کہ بہت سے افراد اپنے پانچ یا چھ سال کے بچے کو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے کودنے نہیں دیتے۔ وہ جس مجلس میں خود جاتے ہیں بچے کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں تاکہ صحیح سے پرورش ہو سکے اگر اس مجلس میں بچہ ہنستا یا کچھ کھاتا ہو تو بچے کو ڈانٹتے ہیں تاکہ اس کو یہ سلیقہ یاد رہے۔
اگر فطری ضروریات پوری نہ ہوں تو…؟
ایک بچہ جب اس کیفیت میں بڑا ہو کہ اس کے وجود کی فطری ضروریات پوری نہ ہوئی ہوں۔ ہمیشہ اس سے صرف خدا، قیامت اور جہنم کی باتیں کی گئی ہوں یہاں تک کہ جب وہ 20 سال یا اس سے بڑا ہو جائے تو یہی باتیں اس کے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں۔ تو نتیجتاً یہی نفسانی خواہشات اور میلانات جو بروقت پورے نہیں ہوئے ہوتے وہ ایک ہی دفعہ میں شرعی و سماجی حدود کی زنجیر کو توڑ دیتے ہیں۔
تخلیقی قابلیت کا گلا دبا دینے کے نقصانات
ایسے بچے جس کو آپ دیکھتے ہیں کہ باپ کے کہنےپر اور دباؤ میں بارہ سال کی عمر میں بیس منٹ تک لمبی لمبی نمازیں اور دعائیں پڑھ رہا ہے پھر ایک مرتبہ آپ دیکھتے ہیں کہ پچیس سال کی عمر میں ایک فاسق و فاجر بن کر نکلتا ہے۔ آخر ایساکیوں؟ کیونکہ آپ نے اس کی تربیت اور روح کو بلند مقامات پر پہنچانے کے بہانے اس کی تمام فطری خواہشات کو دبا دیا ہے۔


































