
Oplus_16908288
تحریر: سمیرا اکبری
ٹرمپ انتظامیہ نے ایک طرف ایران کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسی تناظر میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ نئی پابندیاں امریکی منافقت اور قانون شکنی کا واضح ثبوت ہیں۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے وزیر تیل سمیت کئی ایرانی شخصیات، آئل ٹینکرز اور تجارتی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی حکام کی بار بار مذاکرات کی پیشکش کے باوجود، ایران پر نئی پابندیاں لگانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ کا یہ دعویٰ محض دھوکہ ہے۔ انھوں نے امریکہ کی جانب سے اپنے مخالفین پر پابندی کی پالیسی کو عالمی سطح پر قانونی اصولوں کی خلاف ورزی اور عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے مذموم اقدامات، ایران کی بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور آزاد تجارت کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران کی وزارت تیل اور اس سے وابستہ اداروں میں کام کرنے والے محنتی افراد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی پابندیاں ایرانی قوم کے عزم اور وقار کو متزلزل نہیں کرسکتیں اور نہ ہی ایران کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ امریکہ کا یہ طریقہ کار واضح طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے سفارتی دعووں اور عملی اقدامات کے مابین عدم مطابقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ صورتحال ایران کی جانب سے مزید عدم اعتماد کا باعث بنے گی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی دوسری مدت صدارت میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ نئی پابندیاں اور دباؤ بڑھانا جاری رکھے ہوئے ہے۔ ٹرمپ نے اپنے ایک انٹرویوز میں کہا ہے کہ انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کے نام خط لکھا ہے اور انہیں مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ یہ خط اماراتی سفارتی مشیر کے ذریعے تہران پہنچ چکا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے حالیہ خطابات میں واضح طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ مذاکرات پابندیوں کے خاتمے کا باعث نہیں بن سکتے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے تیل کے وزیر اور ایران سے تیل کی برآمدات سے منسلک کئی کمپنیوں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
ان پابندیوں کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر تک کم کرنا اور ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ اپنے آپ کو ایک سفارت کار کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس کے عملی اقدامات ایک جارحانہ اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اسی لئے تو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ بعض منہ زور حکومتوں کا مذاکرات کے لیے اصرار مسائل کو حل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے ناجائز مطالبات مسلط کرنا ہے۔ لیکن اسلامی جمہوریہ ایران ہرگز ان کے مطالبات کو قبول نہیں کرے گا۔


































