
رام اللہ : فلسطینی مزاحمتی دھڑوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کی غیرقانونی صیہونی آبادکاری میں قونصلر خدمات فراہم کرنے کے امریکی سفارتخانے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے الحاق کی کھلی حمایت قرار دیا ہے۔ امریکی سفارتخانے نے اعلان کیا ہے کہ وہ پہلی بار مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے افرات کی غیرقانونی صیہونی آبادکاری میں قونصلر خدمات فراہم کرے گا، جسے فلسطینی قیادت الحاق کی پالیسیوں کی تائید سمجھتی ہے۔
حماس نے کہا کہ یہ اقدام صیہونی قابضین کے علاقوں کو یہودی بنانے اور الحاق منصوبوں کے ساتھ کھڑا ہونے کے مترادف ہے اور امریکا کے دعوؤں میں کھلے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ تحریک اسلامی جہاد نے اسے محض انتظامی قدم کے بجائے غیرقانونی صیہونی آبادکاری کو خاموش قانونی جواز دینے کی کوشش قرار دیا۔ اسلامی جہاد کے مطابق واشنگٹن الحاق کو معمول بنانے کے لیے میڈیا بیانیے کا سہارا لے رہا ہے اور اس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی۔ مجاہدین موؤمنٹ نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور بیت لحم اور الخلیل میں فلسطینی اراضی پر حملہ قرار دیا۔


































