
جنیوا : اقوام متحدہ کے ادارے انروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں نئی نسل کو صدمے اور مایوسی کے حوالے کرنا غصے کے بیج بو سکتا ہے۔ الشرق الاوسط کو تفصیلی انٹرویو میں فلپ لازارینی نے کہا کہ خدمات کی فراہمی کے طریقے میں بتدریج تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینی ادارے خود مختار ہو سکیں۔ غزہ میں جو کچھ ہوا وہ ناقابل بیان اور مصائب ناقابل برداشت ہیں۔ دو سال سے جاری جنگ کے بعد 80 سے 90 فیصد علاقے تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ سیاسی فیصلوں کی وجہ سے بھوک اور زندگی کو ناقابل برداشت بنانے کی کوششیں شہریوں کو چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ غزہ کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک خاموش جنگ جاری ہے۔ انہوں نے دو ریاستی حل کو بنیادی آپشن قرار دیا لیکن خبردار کیا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں حالات کسی بھی سنجیدہ سیاسی افق کو دور کر رہے ہیں۔ سات اکتوبر کے بعد کے واقعات ایک جاگنے کا الارم ہونا چاہیے تھا لیکن اسے نظر انداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی حل کی عدم موجودگی میں انروا کا مستقبل غیر معینہ مدت تک یرغمال نہیں رہ سکتا۔


































