
تحریر ۔۔ ڈاکٹر تقی نایانی
بعض سفید پوش گھروں کے حالات دیکھ کر کبھی کبھی اپنے آپ سے شرمندگی ہوتی ہے وہ افراد جو محنت کرکے جینا چاہتے ہیں اور بھیک مانگنے پر درد سہنے کو ترجیح دیتے ہیں دوسری طرف کراچی میں موجود امدادی اداروں کی رپورٹ اور میڈیا سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ امدادی رقوم ماہانہ کروڑوں سے زیادہ ہوتی ہے لیکن مانگنے والوں کی تعداد بھی اسی تیزی سے بڑھ رہی ہے ہمارے نزدیک صرف مالی امداد کافی نہیں ، ایک جامع انسانی تعلق اور فعال وابستگی ہی ناداروں کی مدد کا اصل ذریعہ ہے — اور یہی دراصل سنتِ انبیاء ہے۔
*ناداروں کی مدد*: *صرف رقم نہیں، وابستگی اور رہنمائی درکار ہے* — *ایک اسلامی فریضہ*
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف وسائل، صلاحیتوں اور حیثیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کسی کو مال دیا، کسی کو علم، کسی کو وقت، اور کسی کو اثر و رسوخ۔ قرآن مجید ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہ سب کچھ آزمائش ہے، احسان نہیں۔
> "وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ”
(الذاریات: 19)
ترجمہ: "اور ان کے مالوں میں سوال کرنے والے اور محروم کا حق مقرر ہے۔”
مدد صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی و سماجی بھی ہے
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی غریب کو پیسے دے دینا یا راشن پہنچا دینا کافی ہے۔ بلاشبہ، وقتی ضرورت میں یہ احسن عمل ہے، مگر مستقل حل نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ:
> وہ صرف بھوکوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے،
بلکہ ان کے حالات جانتے، ان سے رشتہ جوڑتے، ان کی رہنمائی کرتے اور انہیں خودمختار بناتے تھے۔
*وابستگی کیوں ضروری ہے؟*
اگر کوئی عزیز انتقال کر جائے، بیوی اور بچے بے سہارا رہ جائیں، اور ہم صاحبِ حیثیت ہوں، تو صرف ماہانہ رقم دینا کافی نہیں ہوتا۔ ان بچوں کے تعلیم، تربیت، کردار سازی، مستقبل کی منصوبہ بندی سب ایسی چیزیں ہیں جو رہنمائی اور تعلق کے بغیر ممکن نہیں۔
اسی اصول کو عام معاشرتی سطح پر بھی دیکھا جا سکتا ہے:
ایک یتیم بچہ صرف مالی مدد سے باشعور نہیں بن سکتا۔
ایک بیوہ صرف راشن سے خود مختار نہیں ہو سکتی۔
ایک مظلوم خاندان صرف زکٰوۃ سے معاشرتی تحفظ نہیں پا سکتا۔
یہ سب تب ممکن ہے جب ہم ان کے ساتھ "وابستہ” ہوں، ان کے ساتھ کھڑے ہوں، ان سے بات کریں، ان کی سنیں، اور پھر ان کے ساتھ رہ کر ان کی زندگی سنوارنے میں مدد دیں۔
نبی کریم ﷺ کی سنت
رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس پہلو سے بھری ہوئی ہے:
حضرت زید بن حارثہ کو غلامی سے نکال کر اپنا بیٹا بنا لیا۔
یتیموں کو نہ صرف مال دیا بلکہ باقاعدہ تربیت فرمائی۔
مہاجرین کو صرف جگہ نہیں دی، انصار سے بھائی چارہ قائم کر کے ان کے دل بھی جیتے۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے:
> "انا وکافل الیتیم فی الجنة ھکذا”
ترجمہ: "میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے (اور دو انگلیوں کی جانب اشارہ کیا)”۔
مگر کفالت کا مطلب صرف خرچہ دینا نہیں، بلکہ اس کی نگہبانی، تربیت اور راہنمائی بھی شامل ہے۔
*دورِ حاضر کے تقاضے*
آج کے دور میں وہ تمام افراد جو صاحبِ حیثیت ہیں:تو وہ صرف عطیات دے کر نہیں بچ سکتے۔
انھیں وقت دینا ہوگا، رشتہ بنانا ہوگا، اور قربانی بھی دینی ہوگی۔
ایسے ادارے جو اس نہج پر کام کریں آج دوسروں کے بچے ہیں کل انہی کی جگہ ہمارے بچے نہ ہوں ہمیں اس نکتے کو لازمی سامنے رکھتے ہوئے کام کرنا چاہیے
بس یہی وہ درد ہے جو اس تحریر کا سبب بنی۔ یہ کام ہم اپنی کمیونٹی لیول پر آسانی سے شروع کرسکتے ہیں، کراچی میں بڑی تعداد میں موجود ہیں چاہیے کہ ہم رابطہ بنائیں، تعلق پیدا کریں، اور تربیت کریں تاکہ یہ افراد مستقل طور پر اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔
> "وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى”
(المائدہ: 2)
ترجمہ: "نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔”


































