
کورونا وائرس پھیلانا چین کے خلاف معاشی اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے،چین اور عرب دنیا میں پچھلے کئی سال کے دوران پھیلنے والی وبا کے پیچھے بھی امریکا اور اسرائیل کا ہی ہاتھ تھا
امریکا نے حیاتیاتی جنگ کو ایک نئی قسم کی جنگ میں تبدیل کر دیا، امریکی فیکٹریاں ہر قسم کے وائرس اور بیکٹیریا تیار کرنے والا پہلا مقام ہیں،میڈیا رپورٹس
جدہ (نیوز ڈیسک) عرب میڈیا نے امریکا اور اسرائیل پر چین میں کورونا وائرس کی تخلیق اور اسے پھیلانے کی سازش کا الزام لگادیا، مشرق وسطی کے میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق کورونا وائرس پھیلانا چین کے خلاف معاشی اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے، سعودی اخبار الوطن کے مطابق ایک حیرت انگیز وائرس پہلے چین میں دریافت ہوا اگلے دن وہ مصر میں دریافت کیا جائے گا، لیکن یہ ناں آج، نہ کل اور نہ ہی اس سے اگلے دن امریکا یا اسرائیل میں دریافت ہوگا، نہ ہی غریب ممالک جیسے برونڈی یا جزیرہ کومورو میں رپورٹ ہوگا، چین اور عرب دنیا میں پچھلے کئی سال کے دوران پھیلنے والی وبا کے پیچھے بھی امریکا اور اسرائیل کا ہی ہاتھ تھا، رپورٹ کے مطابق کچھ عرصے پہلے جیسے ہی مصر نے اعلان کیا کہ وہ ملک میں پولٹری پر انحصار کرے گا اور اسے برآمد بھی کرے گا، اسے اب امریکا، فرانس، اور دوسرے ممالک کی پولٹری کی ضرورت نہیں ہے تو اچانک ہی ایوین فلو وائرس دریافت ہوگیا، جس کا مقصد مصر کی معیشت پر ضرب لگانا تھا، اس سے پہلے چین میں بھی ایسا ہی کیا گیا، جب 2003 میں چین نے اعلان کیا کہ اس کے پاس ڈالر کے سب سے بڑے ذخائرموجود ہیں تو فوری طور پر امریکیوں نے کورونا وائرس کے کزن سارس کو متعارف کرادیا، ادھر شام کے اخبار الطہورا نے دعویٰ کیا ہے کورونا وائرس اور دیگر وبائیں امریکا اور چین کی جنگ کا حصہ ہیں، مصری نیوز سائٹ کے مطابق ایبولا، زکا، سارس، ایوین فلو اور سوائن فلو سے لے کر، انتھراکس اور پاگل گائے کی بیماری یہ سب مہلک وائرس امریکا نے تیار کیے اور دنیا میں پھیلانے کی دھمکیاں بھی دیں، امریکا نے حیاتیاتی جنگ کو ایک نئی قسم کی جنگ میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے ذریعے وہ کھیل کے اصولوں کو تبدیل کرنے اور دنیا کے لوگوں کے ساتھ تنازعات کو روایتی راستے سے ہٹانا چاہتا ہے، امریکی فیکٹریاں ہر قسم کے وائرس اور بیکٹیریا تیار کرنے والا پہلا مقام ہے، حالیہ برسوں میں ہم نے چیچک اور طاعون سے لے کر جتنے بھی وائرس دیکھے جس میں پاگل گائے کی بیماری اور سوائن فلو یہ سب امریکا میں تیار ہوئے، ووہان وہ شہر ہے جہاں کورونا وائرس سب سے پہلے دریافت ہوا نہ صرف یہ کہ وہ ایک صنعتی شہر ہے بلکہ شنگھائی کے بعد چین کا آٹھواں امیر ترین شہر بھی ہے۔


































