
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
مصر کے شدید مالی اور اقتصادی بحران اور اس پر 156 بلین ڈالر کے قرضے اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کی طرف سے قاہرہ کی مدد سے انکار کا حوالہ دیتے ہوئے آن لائن اخبار رائے الیوم نے اپنی خارجہ پالیسی میں مصری حکومت کے ممکنہ موڑ کا جائزہ لیا ہے۔ اس ملک کے وزیر خارجہ کے دورہ شام و ترکی اور قطر کی طرف رجحان نیز قاہرہ کے اپنے روایتی اور پرانے اتحادیوں جیسے ریاض و ابوظہبی سے دوری کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔ مصر کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں اور مزاحمتی بلاک کے بارے میں اس کے نقطہ نظر کی تیدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔آن لائن اخبار رائے الیوم نے اپنے اداریئے میں عرب ممالک کے بعض عہدیداروں کے دمشق کے حالیہ دورہ بالخصوص مصری وزیر خارجہ سامح شکری کے پیر کو شام کے دورے اور اس ملک کے صدر بشار الاسد سے ان کی ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ اداریہ نگار نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس سفر کے بعد مصر بتدریج مزاحمت کے بلاک کے قریب ہو رہا ہے۔؟
حالیہ ہفتوں میں عرب ممالک کے سرکاری حکام کے دمشق کے دوروں میں اضافہ، اسی طرح شام کے صدر بشار الاسد کا عمان کے دارالحکومت مسقط کا دورہ، جو ابوظہبی، متحدہ عرب امارات کے اسی طرح کے دورے کے بعد ہوا تھا، اہم اشارے ہیں۔ امارات کا شام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان، بشار الاسد کے ساتھ بعض عرب رہنماؤں کی ٹیلی فونک گفتگو اور اس ملک میں حالیہ تباہ کن زلزلے کے متاثرین سے اظہار ہمدردی و تعزیت، تناؤ اور خاتمے کی علامتیں ہیں۔ شام کے ساتھ عرب ممالک کے رابطے منقطع ہونے اور 11 سالہ پابندیوں کے تناظر میں جو چیز قابل ذکر ہے، وہ بعض عرب ممالک کی شام کی طرف حیرت انگیز اور بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ مصر کی سیاسی اور سفارتی کوششیں نہ صرف شام سے تعلقات بہتر بنانے کی طرف گامزن ہیں بلکہ ترکی اور قطر بھی قریب آرہے ہیں اور قاہرہ کے یہ اقدامات پچھلی دہائی سے مختلف ہیں، کیونکہ مصر ہمیشہ ریاض اور ابوظہبی کے قریب رہا ہے۔
جب مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری کو لے جانے والا طیارہ 11 سالوں کے بعد پہلی بار دمشق کے ہوائی اڈے پر اترا تو اسی وقت مصر کے وزیراعظم ڈاکٹر مصطفیٰ مدبولی کابینہ کے پانچ وزراء پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد کی ہمراہ قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے، جہاں ان کے ہم منصب کی طرف سے گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ اخبار رائے الیوم نے لکھا ہے کہ ہم یہاں اس افتتاح کی اہمیت اور شام کی عرب فوج کی استقامت و مزاحمت اور اس ملک کے خلاف سازشوں کی شکست کے بعد شام کی طرف عربوں کے نقطہ نظر کی تبدیلی کے بارے میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتے، لیکن عرب پارلیمانی وفد کے دمشق کے دورہ کا ضرور ذکر کریں گے، لیکن بدقسمتی سے اس میں مراکش اور کویت کے پارلیمانی نمائندے موجود نہیں تھے۔
کویت کے بہت سے حکام اور یہاں تک کہ شامی عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ کویت کی شام کے ساتھ اس ’’ناشکری‘‘ کی وجہ کیا ہے، حالانکہ صدامی افواج کے کویت پر حملے کے دوران شام نے کویت کی کھل کر مدد کی تھی اور دوسرا سوال یہ ہے کہ شام نے مراکش کے ساتھ کیا کیا ہے، جس نے دمشق پر پابندی لگا دی ہے۔؟ تاہم ہماری رائے میں سب سے اہم پیش رفت وہ ہے، جو ہم مصر میں سفارتی میدان میں دیکھ رہے ہیں، جو ایک نمایاں تبدیلی کے آغاز کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ بعض مبصرین کی تشخیص اور پیشین گوئیوں کی بنیاد پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے شام اور ترکی میں آنے والے زلزلے کے بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے شامی اور ترک ہم منصبوں کے ساتھ ایک فون کال میں یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا اور اپنے وزیر خارجہ کو بھیجا۔ ایک ایسا اقدام جسے ایک کھلے اور انسانی عمل سے تعبیر کیا گیا، لیکن مصر کا یہ اقدام دونوں ممالک (ترکی اور شام) کے ساتھ سیاسی اور علاقائی رابطوں کو بحال کرنے کا باعث بنا ہے۔
مصر اس وقت شدید مالیاتی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جن میں سے سب سے نمایاں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور دیگر قرض دہندہ ممالک کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے 14 بلین ڈالر کا قرض ہے۔ (مصر کا بیرونی قرض 156 بلین ڈالر ہے)، اگر مصر کو بروقت امداد نہ دی گئی تو اس کے پاس اپنی سرکاری کمپنیوں اور اسٹریٹجک اثاثوں کو فروخت کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا اور ان اثاثوں میں سب سے اہم اور واضح نہر سویز یا اس سے منسلک ادارے ہیں، لیکن مصری حکام اس نہر کو بیچنے یا لیز پر دینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ نہر سویز مصری حکومت اور عوام کے لیے سرخ لکیر ہے، کیونکہ نہر سویز ہر سال مصر کے لیے سات ارب ڈالر کی آمدنی پیدا کرتی ہے۔
خلیج فارس کے عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مصر کی مالی امداد کی "فوری” درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے اور خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ مصری صدر کے حالیہ دورہ متحدہ عرب امارات میں متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ان کی ملاقات سے قرض دینے کے جوالے سے ان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ڈیووس اکنامک فورم میں اپنی تقریر میں سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے سختی سے اعلان کیا کہ ریاض نے عرب ممالک کو قرضوں یا ڈپازٹس کی صورت میں امداد اور امداد فراہم کرنے کی پالیسی ترک کر دی ہے، جب تک کہ وہ مالیاتی اصلاحات کے لیے ریاض کی درخواست کو پورا نہیں کرتے۔ الجدعان کے یہ بیانات مصر اور اردن کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ امداد اور مفت ادائیگیوں کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا ہے اور اگلے مراحل میں ریاض کے اہم ترین اہداف اور منصوبہ اس ملک کے لیے منافع بخش سرمایہ کاری ہے۔
اداریہ کے مصنف نے لکھا ہے کہ مصر کے مالیاتی بحران کے سنگین ہونے کے آثار واضح ہیں اور مصر کے اندر اور باہر بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ مصری قومی کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جس سے، مصر کے عوام میں بے اطمینانی اور غصے کی کیفیت ایک دھماکے میں تبدیل ہوسکتی ہے، جس پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ مصر کے ممکنہ نتائج بہت سے عرب ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے لیے حیران کن اور شاید چونکا دینے والے ہوں گے۔ ان نتائج میں سے ایک مصر کی شام کی طرف واپسی ہے۔ مصر شام کا اسٹریٹجک اتحادی ہے اور ان دونوں ممالک کے درمیان اتحاد صدیوں پرانا ہے اور اسی کی بنیاد پر مصری صدر نے حالیہ تباہ کن زلزلے سے فائدہ اٹھایا اور شام کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہے اور تقریباً 1500 ٹن خوراک اور طبی سامان روانہ کیا اور دوسری طرف مصری وزیر خارجہ سامی شکری نے دمشق کا سفر کیا، بشار الاسد کو السیسی کا یکجہتی کا پیغام پہنچایا۔
کیا مصر کے اس نئے اقدام کو ایک بڑی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے یا یہ محض خلیج (فارس) کے بعض عرب ممالک کو مصر کو امداد دینے کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک چال ہے۔؟ اگر مصر کا یہ اقدام ایک سنجیدہ اقدام ہے، جسے ہم رد نہیں کرتے، تو کیا اس میں شام کے راستے ایران اور کسی حد تک عمان اور قطر کے ذریعے مزاحمتی محور کے ساتھ تعلقات کی بحالی شامل ہوگی۔؟ ہم ان سوالوں کا جواب آنے والے ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہیں، لیکن اس اداریئے کے آخر میں جس چیز کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ عربوں نے عرب لیگ اور دوسرے ہتھکنڈوں سے بشار اسد کو گھیرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس میں انہیں ناکامی ہوئی اور بشار اسد ان کے مقابلے میں ڈٹے رہے۔


































