
تحریر: شبیر احمد شگری
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، ذات باری تعالٰی نے حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور ان تمام جہانوں میں سے بھی ہم وہ خوش نصیب ہیں، جو اس نبی پاک کی امت ہیں۔ اسی طرح بلاتفریق مذہب و ملت حتٰی مخلوقات عالم و تمام عالمین کیلئے حضور پاک کی ذات مبارکہ رحمت ثابت ہوئی ہے۔ رحمت اللعالمین کی آمد اور جشن صادقین کے ایام کی سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ کیونکہ اسی ہفتے امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت بھی ہوئی ہے۔ یقین جانیں، اگر ہم حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل پاک کی سیرت اور احکامات پر عمل کریں تو دین و دنیا اور دونوں جہانوں میں کامیابیاں ہمارا مقدر ٹھہریں گی۔ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہمارا ایمان ہے اور ان کا کلمہ پڑھنے والا ہی مسلمان کہلاتا ہے۔ اگر عملی طور پر بھی ہم اسے اپنا لیں تو ہماری مشکلات حل ہو جائیں۔
آج ہم مسلمانوں کی مشکلات کی اہم وجہ یہی ہے کہ ہم نے قرآن کا احترام اسے چوم کر اونچے طاقوں میں رکھنے کو قرار دیا اور نبی پاک کی سیرت پر عمل کرنے کی بجائے ان سے صرف جذباتی وابستگی اپنائے رکھی۔ کلام مجید کو چوم کر رکھ دینا قرآن کی عزت نہیں، بلکہ اس کو پڑھ کر اس پر عمل کرنا اس کی صحیح معنوں میں عزت ہے۔ اسی طرح نبی پاک سے جذباتی وابستگی تو ہم سب بڑھ چڑھ کر رکھتے ہیں۔ ان کی محبت کے دعویدار بن کر ایک دوسرے پر گستاخی کے فتوے لگاتے ہیں، لیکن رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین پر عمل کرنے کی طرف توجہ کم ہے۔ حالانکہ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین کے مطابق نماز نہ پڑھنا، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، برے کاموں سے پرہیز نہ کرنا اور اسی طرح دیگر اعمال کی خلاف ورزی کرنے پر ہم رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں، ان کی خوشنودی و کامیابی ان کی تعلیمات پر عمل کرکے ہی حاصل کی جا سکتی ہے اور اگر صحیح معنوں میں اس پر عمل پیرا ہوتے تو آج عالم اسلام جن مشکلات میں گھرا ہے، اس سے دوچار نہ ہوتا۔
ان ایام میں جہاں بھی جائیں درود و سلام، نعت کی محفلیں اور مسلمانوں کے اندر جوش و خروش اور محبت دیکھ کر خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ ان دنوں میں کلمہ گو مسلمان ایک دوسرے کو گرمجوشی سے مبارکباد پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ مشلمانوں کے اندر وحدت کا جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگرچہ مسلمانوں کے اندر حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ ولادت کے حوالے سے روایت میں کچھ اختلاف ضرور ہے۔ کچھ 12 ربیع الاول اور کچھ 17 ربیع الاول کو رسول پاک کی ولادت کی تاریخ مانتے ہیں۔ لیکن وحدت المسلمین کے داعی اور بانی انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینی ؒ نے اس فرق کو بھی ایک خوبصورت شکل میں ڈھال دیا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ مسلمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکت کو اپنے اتحاد کا محور قرار دیں اور 12 یا 17 کی بجائے 12 سے 17 ربیع الاول پورا ہفتہ "ہفتہ وحدت” کے طور پر منایا جائے۔ ان کی اس تجویز کا پورے عالم اسلام میں بھرپور خیرمقدم کیا گيا اور اب پورے ہفتے میں عید میلاد النبی (ص) کے سلسلے میں جشن اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
بہرحال بارہ سے سترہ ربیع الاول تک جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے ایام ہیں، عالم اسلام کے اتحاد و یکجہتی پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیئے۔ یہ مستحکم حصار اور مضبوط قلعہ اگر تعمیر کر لیا جائے تو کوئی بھی طاقت اسلامی ملکوں اور قوموں کی حدود میں قدم رکھنے کی جرات نہیں کرسکے گی۔ مسلمانوں کیلئے محور کتاب خدا، سنت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شریعت اسلامیہ کو قرار دیا جائے۔ اس بات میں کوئی برائی نہیں۔ یہ تو ایسی بات ہے، جسے ہر منصف مزاج اور عاقل انسان قبول کرے گا۔ قرآن پاک کہتا ہے کہ "و اعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقوا”، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا ہر مسلمان کا فرض ہے، لیکن قرآن نے اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا کہ ہر مسلمان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لے بلکہ حکم دیتا ہے کہ تمام مسلمان اجتماعی شکل میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں۔ "جمیعا” یعنی سب کے سب ایک ساتھ مضبوطی سے پکڑیں۔ چنانچہ یہ اجتماعیت اور یہ معیت دوسرا اہم فرض ہے۔
معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کیساتھ ساتھ اس کا بھی خیال رکھنا ہے کہ یہ عمل دوسرے مسلمانوں کے ساتھ اور ایک دوسرے کے شانہ بشانہ اجتماعی طور پر انجام دیا جانا ہے۔ اس اعتصام کی صحیح شناخت حاصل کرکے اس عمل کو انجام دینا چاہیئے۔ یہ صرف ہمارے پیارے دین اسلام کی خوبصورتی ہے کہ ہمدلی اور باہمی اخوت کے جذبے سے سرشار قومیں جو کوئی سیاہ فام، کوئی سفید فام اور کوئی زرد فام نسلوں پر مشتمل ہیں اور درجنوں مختلف زبانوں سے تعلق رکھتی ہیں، سب کی سب خود کو عظیم امت مسلمہ کا جزو جانتی اور اس پر فخر کرتی ہیں۔ سب ہر دن ایک ہی مرکز کی سمت رخ کرکے بیک آواز اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرتی ہیں، سر بسجود ہوتی ہیں۔ سب کو ایک ہی آسمانی کتاب سے درس و الہام ملتا ہے اور دنیا کے ہر حصے میں چوبیس گھنٹوں میں یہ مسلمان اللہ کا نام اور ذکر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسلمان امت ایک بےحد قیمتی ثقافت کے ساتھ اور بے مثال درخشندگی کیساتھ، حیرت انگیز یکسانیت اور مثالی یگانگت سے بہرہ مند ہے۔
ذات باری تعالیٰ کریم نے مسلمانون کو اپنے حقوق اور دفاع کیلئے لامحدود وسائل کی عظیم دولت سے مالا مال کر رکھا ہے۔ ایسی ہستیاں ہمیں عطا کی ہیں، جو کفر کے مقابلے میں ڈٹ جانے کیلئے ہمیں درس و رہنمائی کرتی رہی ہیں۔ مسلمانوں کے پاس موجود تہذیب و تمدن قدیم ترین اور منفرد ہے۔ ان صلاحیتوں کی بنا پر مسلمان اپنا بہترین دفاع کرسکتے ہیں۔ اللہ سے تمسک، توکل اللہ اور ایمانی و روحانی طاقت جیسی نعمتوں کو اگر بروئے کار لائیں گے تو ایک ناقابل تسخیر امت ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ان امور پر اللہ سے خلوص کیساتھ عمل پیرا ہوں اور رب کی عطا کردہ کامیابی اور توکل پر کامل یقین ہو تو کامیابی اور بلندی یقینی ہے۔ کیونکہ اللہ پاک فرماتا ہے۔ "ولینصرن اللہ من ینصرہ” (اللہ اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی نصرت کرے گا، حج 40) اور اگر آج ہم اللہ کی مدد کے وعدے یہ تمام وسائل ہونے کے باوجود دنیا میں مشکلات کا شکار ہیں تو اس میں ظاہر ہے کہ خود ہماری کمزوریاں ہیں خامیاں ہیں۔
اگر آج خدا کے عطا کردہ وسائل پر دشمن قابض ہیں تو اس میں ہم مسلمانوں کی ہی کمزوری ہے۔ آج پوری دنیا میں فلسطین، کشمیر، یمن، شام اسی طرح دوسرے مقامات پر مسلمانوں پر مظالم ہو رہے ہیں تو یہ مسلمانوں میں اتحاد نہ ہونے کے سبب ہیں۔ کیا یہ سب کو مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کے حکم کی خلاف ورزی نہیں۔ دشمن ہمیں مختلف فرقوں میں، قوم میں، نسل میں بانٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کرکے اپنے مفادات حاصل کر رہا ہے۔ لیکن مسلمان اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود مجبور و بے بس ہیں۔ اس لئے آج مسلمانوں کی کامیابی کا واحد حل صرف اللہ کی رسی کو مل کر اور مضبوطی سے تھام لینے میں ہے۔ اللہ پاک ہمیں اس ماہ مبارک میں اسلام کی تعلیمات اور نبی پاک کی سیرت پر مکمل عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔


































