
لاہور : مولانا سید تطہیر حسین زیدی نے کہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے لئے نظام زندگی تشکیل دیتا ہے اور قرآن کو کتاب ہدایت بنا کر بھیجا ہے تو ہم اپنی مرضی کیوں کرتے ہیں؟ اگر ہم قرآن مجید کے مطابق زندگی گزاریں گے تو ہماری ہر سانس عبادت بن جائے گی ۔ عفو سے مراد یہ ہے کہ ضروریات زندگی ،آسائشات زندگی اور سہولیات زندگی کے علاوہ جو بچ جاتا ہے وہ زکوٰة اور خمس کی صورت میں ادا کردیں ۔اگر زکوٰة اور خمس کے بعد بھی بچ جائے تو امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اپنے دن کا آغاز صدقہ و خیرات سے کرو ۔ اگر تمہارے پاس کم بھی ہو تو صدقہ دینے سے شرماﺅ نہیں ۔اگر تم صدقہ سے ابتداءکرو گے تو ہم تمہیں نقصان پہنچانے ہی نہیں دیں گے ۔اگر ایک روپیہ بھی صدقہ ہو تو وہ صدقہ ستر بلاﺅں کو بھی دور کر دیتا ہے ۔ ان کا کہنا تھاکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن مجید نے ہمیں دنیا و آخرت دونوں کی تعلیم دی ہے کہ دنیا بھی مانگو تو اچھی مانگو اور آخرت بھی مانگو تو اچھی مانگو ۔


































