
ہر کام سے پہلے نیت کو جہت دیں!
آج سفر کربلا کا پہلا دن۔ گاڑی میں بچوں نے اتنا تنگ کیا کہ وہ سفر جو بہت ہنسی خوشی اور روحانی حالات کے ساتھ شروع ہوا تھا۔۔آہستہ آہستہ ہم والدین کے صبر کے پیمانے کو لبریز کرچکا تھا۔
اچانک ہوش کے ناخن لئے۔ دل میں خیال آیا،
بس اتنا سا تھا تمہارے صبر کا پیمانہ؟
بچوں کا ایسے تنگ کرنا، نارمل سی بات ہے۔ ہم جلدی آپے سے باہر ہو جاتے ہیں تو مشکل ہماری جانب سے ہے۔
اور صرف ہم بڑے ہی نہیں، بلکہ یہ بچے بھی تو زائر امام حسین (ع) ہیں۔ وہاں عراق میں خادمین، زائرین کو اپنی آنکھوں پہ رکھتے ہیں۔ کیا تم ان زائروں کو۔۔۔
نیت کو جہت دی۔
خدایا! ان بچوں کو زائر کی نگاہ سے دیکھ کر میں جو بھی مشقت اٹھاؤں، اسے مولا کی خادمی میں لکھنا۔
اس نیت کے بعد واقعا میرے صبر کا پیمانہ بڑھ گیا اور بچوں کو بہت صبرو حوصلہ کے ساتھ ڈیل کیا۔


































