
ڈھاکا : بنگلہ دیش کے پارلیمانی الیکشن میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کرلی۔ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق الرحمان نئے وزیراعظم ہوں گے۔
بی این پی نے 299 میں سے 212 ، جماعت اسلامی نے 77 نشستیں، جبکہ چھ نشستیں دوسری جماعتوں نے حاصل کیں۔ ووٹنگ کی شرح انسٹھ اعشاریہ چار چار فیصد رہی۔
بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت نے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی لیگ ملکی سیاست میں جماعت اسلامی کے عروج کی ذمہ دار ہے۔
دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ جبکہ ایک بیان میں جماعت اسلامی نے ووٹوں کی گنتی کے عمل پر سوالات اٹھا دیے اور کہا کہ ہم انتخابی نتائج کے عمل سے مطمئن نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی کی جانب سے کچھ حلقوں میں الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کیاگیا۔
بی این پی کے رہنما اور وزیراعظم کے امیدوار طارق الرحمان نے کہا کہ بنگلہ دیش کے کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات باہمی احترام اور مفاد پر مبنی ہوں گے۔ انڈین وزیراعظم نریندر مودی۔ پاکستانی صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بی این پی کی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔
یہ انتخابات 2024 میں ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے بعد پہلی بار منعقد ہوئے، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ واجد کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ ملک میں سیاسی استحکام کی بحالی کے لیے اس انتخاب کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا تھا۔


































